چکن کے بعد اب فروٹ کی باری آ گئی

سوشل میڈیا پر فروٹ کی تین روزہ بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا

ہفتہ مئی 23:18

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ مئی ء):چکن کے بعد اب فروٹ کی باری آ گئی۔ سوشل میڈیا پر فروٹ کی تین روزہ بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا۔سوشل میڈیا ایکٹوئسٹ کی جانب سے 22,21اور 23مئی سے فروٹ بائیکاٹ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ماہ رمضان جہاں ایک طرف خیر و برکت اور اللہ کی نعمتوں کا نزول لے کر ہم پر آتا ہے وہیں بہت سے منافع خور بھی اس ماہ مبارک میں اپنی اپنی بلوں سے نکل آتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ ماہ رمضان کے شروع ہوتے ہی پھلوں ،سبزیوں اور فروٹس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔مہنگائی کا جن بوتل سے ایسے باہر آتا ہے کہ کسی کے قابو میں بھی نہیں رہتا۔انتظامیہ اس سارے معاملے پر خاموش تماشائی بنے عوام کا تماشا دیکھ رہی ہوتی ہے اور کسی بھی قسم کا ٹھوس قدم اٹھانے کی بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی ہے۔

(جاری ہے)

کچھ عرصہ پہلے تک تو عوام بھی اس سارے سلسلے کا شکار بنے خاموشی سے سب کچھ برداشت کر لیتے تھے تا ہم اب اس حوالے سے ایک بڑا انقلاب آ چکا ہے ۔سوشل میڈیا نے جہاں عوام میں دیگر بہت سے معاملات پر شعور پیدا کیا ہے وہیں منافع خوروں کو بھی سبق سکھانے کا ہنر سیکھ لیا ہے ۔عوام کی جانب سے ناجائز منافع خوروں کو سبق سکھانے کے لیے سوشل میڈیا پر مہنگی اشیا کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی جاتی ہے تو عوام کو لوٹنے والوں کے ہوش بھی ٹھکانے آ جاتے ہیں۔

اس حوالے سے گزشتہ دنوں جب چکن کی قیمت کو پر لگے تو صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر چکن بائیکاٹ کی بھرپور مہم چلائی گئی جس کے اثرات جلد ہی عوام کو دکیھنے کو ملے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چکن کے بعد پھلوں کی باری آ گئی ہے۔عوام کی جانب سے ناجائز منافع خوروں کو سبق سکھانے کے لیے پھلوں کا بائیکاٹ کرنے کی مہم چلانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا ایکٹوئسٹ کی جانب سے 22,21اور 23مئی کو فروٹ بائیکاٹ کی مہم شروع کئیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ا س موقع پر مہم چلانے والوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ان تین دنوں میں فروٹ کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور کسی قسم کے پھل کو نہ خریدا جائے تاکہ ناجائز منافع خوروں کی بڑھتی ہوئی من مانیوں کا راستہ روکا جا سکے۔اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس مہم کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بائیکاٹ مہم کو احسن قدم قرار دیا ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments