پاکستان پر ہائبرڈ وار نافذ کردی گئی ہے،تجزیہ کاررانا مبشر

ہائبرڈ وار میں کسی ریاست کومعاشی لحاظ سے کمزورکرنا، اداروں کے درمیان لڑائی کرواناا ور عدم استحکام پیدا کرنا ہوتا ہے،دفاع کے بجٹ میں 90فیصدپاک افغان سرحد پرباڑ لگانے پرخرچ کیا جارہا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

اتوار مئی 21:23

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء): سینئر تجزیہ کار رانا مبشر نے بتایا ہے کہ پاکستان پر ہائبرڈ وار نافذ کردی گئی ہے،ہائبرڈ وار میں کسی ریاست کومعاشی لحاظ سے کمزورکرنا، اداروں کے درمیان لڑائی کرواناا ور عدم استحکام پیدا کرنا ہوتا ہے،دفاع کے بجٹ میں 90فیصدپاک افغان سرحد پرباڑ لگانے پرخرچ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پر ہائبرڈ وار نافذ کردی گئی ہے۔یعنی پاکستان ہائبرڈ وار کا شکار ہے۔ہائبرڈ وار کے دوران تین چار چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہوتی ہیں۔ ان میں ایک ریاست کو معاشی اور اقتصادی لحاظ سے اتنا کمزور کردیں کہ وہ اپنے قومی مفاد کو واچ نہ کرسکے۔ اسی طرح آپ اداروں کے ساتھ اداروں کی لڑائی کروا دیں۔

(جاری ہے)

تیسرا یہ کہ آپ ملک کے اندر ایسی صورتحال پیدا کردیں کہ وہاں دہشتگردی بھی ہواور عدم استحکام بھی پیدا ہوجائے جس کی وجہ سے مایوسی پیدا ہوتی رہے اور ہر شخص پریشانی میں مبتلا ہوجائے۔انہوں نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کے پیش نظر کو فینسنگ ہو رہی ہے۔ اس سے بہت سے ممالک کو تکلیف ہے۔کیونکہ جو دہشتگرد سرحد سے پار سے آتے تھے اور پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں کے بعد واپس چلے جاتے تھے اب ان کی آمدورفت میں بہت زیادہ رکاوٹ آئے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ جو ممالک اعتراض کرتے تھے کہ پاک افغان بارڈر پر سکیورٹی باڑ نہ لگائی جائے ان کے اعتراضات کو رد کرکے پاکستان نے اپنی جانب باڑ لگائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کا جو دفاع کا بجٹ رکھاجاتا ہے اس بجٹ میں 90فیصد اخراجات باڑ لگانے پر آرہے ہیں۔واضح رہے پاکستان آج کل بظاہرہائبرڈ وار کا شکار نظر آتا ہے ،ملک دشمن قوتوں نے پاکستان میں اداروں کو اداروں کے ساتھ لڑانا ، ریاست کو معاشی لحاظ سے کمزور کرنے جس میں سی پیک اہم ہے ،سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے اور ملک کو دہشتگردی کے ساتھ سیاسی عدم استحکام پیدا کرکے کمزور کرنے کے سازش شروع کررکھی ہے۔ تاہم ہمیں ایک قوم متحد ہو کرپاکستان کو ان مشکلات سے نکالنا ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments