بھارت جھڑپوں سے کولڈ ڈاکٹرائن کو ٹیسٹ کررہا ہے،شیریں مزاری

بھارت پاکستان کی پالیسی نہ ہونےکا فائدہ اٹھا رہا ہے،پاکستان نےکشمیرکیلئے ابھی تک کوئی تجویزنہیں دی،بھارت کوایل او سی کی خلاف ورزی پرمنہ توڑجواب دینا چاہیے،پاکستان کشن گنگا ڈیم پرآئی سی جےمیں جا سکتا ہے۔تقریب سے خطاب

اتوار مئی 21:49

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء): تحریک انصاف کی رہنماءشیریں مزاری نے کہا ہے کہ بھارت جھڑپوں سے کولڈ ڈاکٹرائن کو ٹیسٹ کررہا ہے،بھارت پاکستان کی پالیسی نہ ہونے کا فائدہ اٹھا رہا ہے،
بھارت کوایل او سی کی خلاف ورزی پرمنہ توڑجواب دینا چاہیے،پاکستان کشن گنگا ڈیم پر آئی سی جے میں جا سکتا ہے۔

انہوں نے آج پی ٹی آئی کےحکومت ملنے کے بعد پہلے ایک سو روزہ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے امن چاہتے ہیں لیکن پہلے مسائل کےحل کیلئے پیش رفت کریں۔ جبکہ پاکستان مسئلے کے حل کی تجاویزبھارت کے سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے امریکا کوپاکستان کی سپورٹ کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کی پالیسی نہ ہونے کا فائدہ اٹھا رہاہے۔

(جاری ہے)

پاکستان نے مسئلہ کشمیر کےحل کی کوئی تجویز نہیں دی۔ اب تک مسئلہ کشمیرکےحل کیلئے ٹھوس تجاویزنہیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کی ادارہ جاتی استطاعت بشمول قانونی استطاعت ، صلاحیت اور عالمی رسائی میں اضافے کے ذریعے وزارت کومضبوط بنانے کے عمل کا آغاز کیا جائے گا۔ کلیدی فریقوں کی جانب سے خارجہ پالیسی سے متعلق فراہم کردہ معلومات کے انتظام کار اور معقول فیصلہ سازی کیلئے وزیراعظم کے دفتر میں پالیسی ''کوآرڈینیشن سیل''قائم کیا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ قومی مفادات سے ہم آہنگ پالیسیوں کا آغاز کیا جائے گاپاکستان کی ترجیحات کو مد نظر کھتے ہوئے مغربی اور مشرقی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری کیلئے تنازعات کے حل کا کلیہ اپنایا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے کی منصوبہ بندی کیلئے کام کا آغاز کیا جائے گا۔

علاقائی اور عالمی طور پر دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر پاکستان کی مطابقت میں اضافے کیلئے چین اور خطے میں پاکستان کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو توسیع دی جائے گی ۔انہوںنے کہاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ملکی معیشت کے احیاء کیلئے سیاسی ،ْاقتصادی سفارتکاری کو ترجیحاً بروئے کار لایا جائے گا۔ وزارت خارجہ اور وزارتِ تجارت کو اس حوالے سے روڈ میپ کی تیاری کا کام سونپا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی طرز پر وزیراعظم کی سربراہی میں کلی نیشنل سکیورٹی آرگنائزیشن قائم کی جائے گی انہوںنے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل پلانیری کونسل (پالیسی اینڈاسٹریٹجی)اور اسپشلسٹ ورکنگ گروپ پر مشتمل ہوگی۔ شیریں مزاری نے کہا کہ نیکٹا این ایس او اس کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کے مقابلے کیلئے خصوصی طور پر ایک جامع داخلی سکیورٹی پالیسی نافذ کی جائے گی جس کی بنیاد چار اصولوں پر استوار ہو گی۔

شیریں مزاری نے کہاکہ متحرک اور غیر متحرک دہشت گردوں کے مابین روابط، گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنا، دہشت گردی کے خلاف قومی منصوبہ عمل (نیشنل ایکشن پلان) کا مکمل نفاذ اور اس میں توسیع ،ْدہشتگردوں کو تنہا کرنا، ان کی بیخ کنی کرنااور رد عمل سے بچائو کیلئے اقدامات کرنا ،ْ نصاب کی تشکیلِ نو اورمدارس کی قومی دھارے میں شمولیت اولین ترجیح ہوگی ۔

Your Thoughts and Comments