سوات ایکسپریس وے کے متاثرین نے پُل چوکی انٹرچینج پر کام شروع کرنیوالے ٹھیکیدار کو کام کرنے سے روک دیا

تحفظات دور کر کے مطالبات نہ منظور نہ کیے گئے تواپنی جانیں قربان کردیں گے مگر انٹرچینج تعمیر نہیں ہونے دیں گے متاثرین انٹرچینج ایکسپریس وے امجد علی ، فضل رحمن ، رشید خان ، عزیز باچہ ، فضل مولا خان و دیگرکا پریس کانفرنس سے خطاب

منگل مئی 22:01

بٹ خیلہ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل مئی ء)سوات ایکسپریس وے کے متاثرین نے پُل چوکی انٹرچینج پر کام شروع کرنیوالے ٹھیکیدار کو کام کرنے سے روک دیا، ہمارے تحفظات دور کر کے مطالبات نہ منظور نہ کیے گئے تواپنی جانیں قربان کردیں گے مگر انٹرچینج تعمیر نہیں ہونے دیں گے،کئی متاثرین کا خود سوزی کا اعلان ۔

منگل کو ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین انٹرچینج ایکسپریس وے امجد علی ، فضل رحمن ، رشید خان ، عزیز باچہ ، فضل مولا خان ، امیر نواب ،محمد اسرار باچہ اور دیگر نے خطاب کیا ۔ مقررین نے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے دو مرتبہ اربوں روپے کے کمرشل ایریا اور آباد جگہوں کومتاثرین کے مطالبات پر مجوزہ انٹر چینج کے نقشے سے نکالا،مگر اس کے باوجود متاثرین کی زمینوں اور دکانوں سمیت مکانات کے ارد گرد کام شروع کرنے کی کوشش کی ،ہمارے تحفظات دور کر کے مطالبات نہ منظور نہ کیے گئے تواپنی جانیں قربان کردیں گے مگر انٹرچینج تعمیر نہیں ہونے دیں گے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی جانب سے پل چوکی کے مقام پر انٹر چینج کی تعمیر سے انتشار اور خون خرابے کا خدشہ ہے ،کئی متاثرین ایسے ہیں کہ انہوں نے پیشگی خود سوزی کا اعلان کررکھاہے ،ٹھیکیدار کے کام شروع کرنے سے متاثرین میں شدید اشتعال و غم وغصہ پایا جاتاہے ، اگر اس کے باوجود ٹھیکیدار نے کام شروع کیا تو نقصان کی ذمہ دار صوبائی حکومت اور کنسٹرکشن کمپنی خود ہوگی ۔

انہوںنے کہاکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر اور حکومت چند منظور نظر افراد کے زمینوں کو بچانے کیلئے سینکڑوں افراد سے وابستہ اربوں روپے کے زمینوں اور دکانات ومکانات کو مسمار کرنے کی درپے ہیں حالاںکہ وزیر اعلیٰ نے دو مرتبہ اعلان کیا کہ371کنال کی بجائے 100کنال رائونڈ اباوٹ انٹر چینج تعمیر کی جائیگا اور بازاروں سمیت مکانات کو متاثر نہیں کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہاکہ ریاست کاکام ریلیف دینا ہوتا ہے مگر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت وعدوں اور اعلانات کے باوجود بھی ناانصافی کررہی ہے ہزاروں افراد کے بے روز گار ہونے اور کمرشل مارکیٹ کے ختم ہونے کا خدشہ ہے غیر آباد جگہیں ہونے کے باوجود حکومت آباد جگہوں پر انٹر چینج تعمیر کررہی ہے ،ہمارے پاس اجتماعی خودکشیوں اور اپنی زمینوں پر اپنی جانیںقربان کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں اس لیے صوبائی وفاقی حکومت ، ایف ڈبلیو اوکے حکام ، وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ،ڈی سی مالاکنڈ اور کمشنر مالاکنڈ ڈویژن سے مطالبہ ہے کہ وہ ہماری حال پر رحم کرکے ہمیں ریاست کے خلاف بغاوت پر مجبور نہ کریں ۔

Your Thoughts and Comments