پاکستان نے مالی بحران سے نکلنے کیلئے چین کی طرف دیکھنا شروع کردیا ،ْبرطانوی میڈیا

چینی لوگوں کو مغربی اداروں کی طرح سی پیک منصوبے کی ہر چھوٹی سے چھوٹی مالی تفصیل جاننے کی جلدی نہیں ہے ،ْ عہدیدار

بدھ مئی 23:49

لندن (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء)برطانوی اخبار نے کہا ہے کہ پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کے بحران سے نمٹنے کیلئے ایک بار پھر چین کا رٴْخ کر لیا اور اپریل میں چینی بینکوں سے ’اچھی، مسابقتی شرح‘ پر ایک ارب ڈالر کا قرض لیا۔فنانشل ٹائمز (ایف ٹی) کو انٹرویو دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر طارق باجوہ چینی بینکوں سے اچھی شرح پر قرض حاصل کرنے کی تصدیق کی۔

اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس رقم سے دونوں ممالک کے درمیان مالی، سیاسی اور عسکری تعلقات مضبوط ہوں گے۔رپورٹ میں طارق باجوہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ چین کی کمرشل بینکوں کے پاس پیسوں کی بھرمار ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18.1 ارب ڈالر تھے جو رواں سال مئی میں کم ہو کر 10.8 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی حکام کو امید ہے کہ چینی بینکوں سے ملنے والی اس رقم سے پاکستان، قرض کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جانے سے بچ جائیگا۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں پاکستانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کو قرض دینا چین کے بھی مفاد میں ہے تاہم انہوں نے پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے لیے حاصل کیے گئے قرضوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

پاکستان میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے چین تقریباً 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، تاہم وہ اسلام آباد کو سی پیک منصوبے کے لیے فراہم کیے جانے والے قرض کی تفصیلات بتانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا ہے۔اسلام آباد میں بینام عہدیدار کے مطابق چینی لوگوں کو مغربی اداروں کی طرح سی پیک منصوبے کی ہر چھوٹی سے چھوٹی مالی تفصیل جاننے کی جلدی نہیں ہے، آئی ایم ایف پروگرام کیلئے پاکستان کو مالی ٹرمز بتانے کی ضرورت ہوگی۔

ایف ٹی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ حاصل کیے گئے ایک ارب ڈالر سے قبل بھی پاکستان، چینی بینکوں سے اپریل 2017 سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے، جبکہ مزید قرض لیے جانے کی بھی توقع ہے۔رپورٹ میں ایک اور گمنام عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کی وزارت خزانہ نے چینی حکام سے اپریل 2019 میں مالی سال کے اختتام سے قبل اضافی کم از کم 50 کروڑ ڈالر حاصل کرنے کے لیے غیر رسمی مذاکرات کر لیے ہیں۔

Your Thoughts and Comments