عراقی عدالت سے داعش کے دہشت گرد کو 10 منٹ میں سزائے موت کا حکم

بدھ مئی 15:10

بغداد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء) عراق کی ایک فوجی عدالت نے شدت پسند گروپ ’داعش‘ میں بھرتی ہونے والے مراکشی نژاد بیلجین شدت پسند طارق جدعون المعروف ابو حمزہ بیلجینی کو صرف دس منٹ کی سماعت کے دوران سزائے موت کا حکم دے دیا۔ ابو حمزہ 2014ء میں داعش میں شامل ہوا تھا اور اسے چندہ ماہ قبل عراق میں داعش کے خلاف آپریشن میں حراست میں لیا گیا۔

بیلجین دہشت گرد خود بھی فیصلہ سنائے جانے کے وقت کمرہ عدالت میں موجود تھا۔ عدالت نے ملزم کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں قصور وار قرار دیتے ہوئے پھانسی دینے کا حکم دیا۔ کیس کی کارروائی صرف دس منٹ جاری رہی۔ ملزم کی عدالت میں پیشی سے قبل سر اور داڑھی منڈوا دی گئی تھی۔ اس موقع پر اس نے اپنی بریت کا دفاع کیا اور کہا کہ مجھے گمراہ کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ ابو حمزہ کو متعدد ویڈیوز میں دیکھا گیا جن میں وہ فرانس اور بیلجیم پر حملوں کی دھمکیاں دیتا ہے۔ اس پر 60 لڑکوں جن کی عمریں 8 اور 13 سال کے درمیان تھیں داعش میں بھرتی کرنے اور انہیں جنگی تربیت دینے کا الزام ہے۔ ابو حمزہ شام کے کرد اکثریتی علاقے کوبانی،عین العرب، عراق کے تکریت، نینویٰ، الرمادی اور کئی دوسرے علاقوں میں لڑائیوں میں پیش پیش رہا ہے۔ ایک ہاون راکٹ حملے میں وہ زخمی بھی ہوگیا تھا۔

Your Thoughts and Comments