وہ ملک جہاں خواتین کو جنسی زیادتی کے عوض کھانا دیا جاتا ہے

نائجیریا میں ایمنسٹی انٹر نیشنل کا لرزہ خیز انکشاف،کھانے کے عوض جنسی زیادتی نائجیریا میں بھوک پیاس قابو سے باہر،روٹی کے عوض عزت کا سودا،تحقیقات کا مطالبہ

جمعرات مئی 19:36

ابوجا(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات مئی ء)ایمنسٹی انٹر نیشنل نے لرزہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کیپموں میں خواتین سے کھانے کے عوض جنسی زیادتی کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا، نائجیریا میں بھوک پیاس قابو سے باہر ہو گئی،روٹی کے عوض عزت کا سودا ہوتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نائجیریا حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے الزامات کی باقاعدہ تحقیق کرے کہ حکومتی فورسز اور نجی ملیشیا گروہ کیپموں میں خواتین سے کھانے کے عوض جنسی زیادتی اور جنسی تعلق قائم کرتے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایسے کئی شہادتیں جمع کی ہیں، جن کے مطابق حکومتی سکیورٹی فورسز مبینہ طور پر بے گھر ہونے والی خواتین کو خوراک کے بدلے جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرتے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب نائجیرین حکام کی جانب سے جنسی تشدد اور ایسی شکایات کے خلاف اقدامات اٹھانے کے وعدوں کے باوجود ابھی تک اس حوالے سے کوئی بھی قابل عمل پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

نومبر 2016 میں پولیس نے کہا تھا کہ وہ دور دراز کے کیمپوں میں جنسی زیادتیوں اور خواتین کے جنسی استحصال کے حوالے سے تحقیقات کرے گی لیکن چند ماہ بعد فوج کی جانب سے ایسے تمام الزامات کو مسترد کر دیا گیا تھا۔جہادی تنظیم بوکوحرام کے ساتھ جاری لڑائی کے وجہ سے نائجیریا کے شمال مشرق میں بڑی تعداد میں افراد داخلی سطح پر بے گھر ہو چکے ہیں اور ایسے افراد کو کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔

ایمنسٹی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ابھی تک یہ ہی واضح نہیں ہے کہ اس حوالے سے کوئی تحقیقات بھی ہوئی تھیں اور نہ ہی کوئی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے۔نائجیریا میں ایمنسٹی کی ڈائریکٹر اوسائی اوجیگو کا صدر محمد بخاری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا، اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ صدر شمال مشرق میں بے گھر افراد کی حفاظت اور ان کے انسانی حقوق کے لییکیے گئے وعدوں کو پورا کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا، ایسی خوفناک خلاف ورزیوں کے خاتمے کا ایک ہی راستہ ہے کہ معافی کے کلچر کو ختم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس علاقے میں قاتل یا جنسی زیادتی کرنے والے بچ نہ سکیں۔ان متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی امدادی تنظیموں کے مطابق بہت سی خواتین اور لڑکیاں اپنے خاندانوں سے جدا ہو چکی ہیں اور وہ جنسی زیادتی کرنے والوں کا آسان ہدف ہیں۔ علاوہ ازیں کیمپوں کے اندر اور باہر جنسی زیادتی کے واقعات بھی پھیل چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو متعدد خواتین نے بتایا ہے کہ فوجیوں اور نجی ملیشیا کے اراکین کی طرف سے انہیں ان کی گرل فرینڈ بننے پر مجبورکیا جاتا ہے اور بدلے میں انہیں خوراک فراہم کی جاتی ہے۔

Your Thoughts and Comments