نواز شریف نے قومی سانحات کی تحقیقات کیلئے ایک بار پھر بااختیار کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی کتاب میں ہونے والے انکشافات پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہیے یہ انتہائی پیچیدہ ایشو ہے جسے ڈسکس کرنا چاہیے ۔ بلوچستان حکومت کی تبدیلی پر بھی کمیشن بننا چاہے۔ کون ہے جو میڈیا پر قد غن لگا رہا ہے میڈیا کی آواز دبارہا ہے ۔ اب حساب کتاب کا وقت آگیا ہے، سابق وزیراعظم

جمعہ مئی 19:56

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء)سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے قومی سانحات کی تحقیقات کیلئے ایک بار پھر بااختیار کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا ۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی کتاب میں ہونے والے انکشافات پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہیے یہ انتہائی پیچیدہ ایشو ہے جسے ڈسکس کرنا چاہیے ۔

بلوچستان حکومت کی تبدیلی پر بھی کمیشن بننا چاہے۔ کون ہے جو میڈیا پر قد غن لگا رہا ہے میڈیا کی آواز دبارہا ہے ۔ اب حساب کتاب کا وقت آگیا ہے میں نے 70پیشیاں بھگت کر اس کی مثال قائم کردی ہے یہ حکومت جس طرح ٹرم پوری کررہی ہے اللہ نہ کرے کوئی اور بھی ایسا کرے۔ شاہد خاقان عباسی پارٹی کے وفادار اور مخلص کارکن ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے احتساب عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک گھمبیر مسائل سے دو چار ہے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کون ہے جو بندے توڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل کروا رہا ہے ۔ کون ہے جو ایک ترمیم کیلئے ووٹ نہ دینے کیلئے اسمبلیوں میں جانے سے روکتا ہے۔ ہمیشہ اپنے حق بات کرتا رہوں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ایک وقت میں دو تین متوازی حکومتیں نہیں چل سکتیں۔ ہماری حکومت تو ملک میں برائے نام ہے۔

اصل اختیارات کسی اور کے پاس ہیں۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اقتدار میں آکر بااختیار قومی کمیشن بنائیں گے جو ملک کو دیمک زدہ بیماریوں سے جان چھڑائے گا۔ ہم انتخابات میں جارہے ہیں اور ہم نے جو قوم سے ودے کئے تھے وہ پورے کردیئے ہیں۔ ہم اس ملک میں سی پیک لے کر آئے۔ اب اس منصوبے میں بھی رخنہ اندازی ہورہی ہے سی پیک زرداری کا منصوبہ تھا کو تو ان کے دور میں کیوں شروع نہیں شروع ہوا۔

ہم نے فاٹا کو ان کے حقوق دینے کی بات کی تھی اور الحمد اللہ ہم اس میں بھی سرخرو ہوئے۔ جے آئی تی سربراہ واجد ضیاء نے مجھے بلایا تو میں بطور وزیراعظم ان کے دفتر میں گیا۔ واجد ضیاء مشرف کے فارم ہائوس کے باہر بیٹھ کر واپس آجاتے تھے ہم کیسز بھگت رہے ہیں اور جو جو کہتا تھا کہ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں وہ مفرور ہے اور آج پیشیاں بھگت رہا ہے ہم نے اس مکل میں رہنا ہے اور اس ملک کی خدمت کرتے رہیں گے۔

Your Thoughts and Comments