ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم نے مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح ایوان صدر سے نکالا،آصف علی زرداری

نواز شریف کی اجازت سے پرویز مشرف ملک سے باہر گئے ، میاں صاحب بتائیں پاکستان کے ساتھ ہیں یا اور کسی کے ساتھ ہیں میرے لوگوں پر کیسز ہیں اور وہ بھی جیلوں میں ہیں ،مریم نواز کے کٹہرے میں کھڑا ہونے پر خوشی نہیں ،ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی میری اہلیہ بے نظیر عدالتوں میں پیش ہوتی تھی تو یہ کیا کرتے تھے چاہتا تو شہباز شریف کی پنجاب میں حکومت نہیں بن سکتی تھی ، نعیم الحق کا تھپڑ مارنا سیاست کا اچھا باب نہیں ، نگران وزیراعظم کیلئے ایک بزنس مین اور ایک بیورو کریٹ کا نام دیا ہے ، ریٹائرڈ ججز کے نام نہیں دیئے ، فاٹا کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کئے جا سکتے ہیں ، نواز شریف کہتے ہیں مشرف کے معاملے پر زرداری میرے پاس ہے اگر جاتا تو اور بہت سے کام کرواتا اس معاملے سے میرا کیا تعلق ،فاٹا کا انضمام پاکستان اور عوام کے حق میں ہے تاریخی دن پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں،فاٹا انضمام کا معاملہ آگے بڑھے گا، سابق صدر جنوبی پنجاب صوبہ ضرور بنے گا، تحریک انصاف اگر انتخابی اتحاد نہیں بنانا چاہتی تو ہم کیوں بنائیں گی پریس کانفرنس سے خطاب

جمعہ مئی 22:29

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء)پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم نے مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح ایوان صدر سے نکالا، نواز شریف کی اجازت سے پرویز مشرف ملک سے باہر گئے ، میاں صاحب بتائیں پاکستان کے ساتھ ہیں یا اور کسی کے ساتھ ہیں میرے لوگوں پر کیسز ہیں اور وہ بھی جیلوں میں ہیں ،مریم نواز کے کٹہرے میں کھڑا ہونے پر خوشی نہیں ،ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی میری اہلیہ بے نظیر عدالتوں میں پیش ہوتی تھی تو یہ کیا کرتے تھے چاہتا تو شہباز شریف کی پنجاب میں حکومت نہیں بن سکتی تھی ، نعیم الحق کا تھپڑ مارنا سیاست کا اچھا باب نہیں ، نگران وزیراعظم کیلئے ایک بزنس مین اور ایک بیورو کریٹ کا نام دیا ہے ، ریٹائرڈ ججز کے نام نہیں دیئے ، فاٹا کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کئے جا سکتے ہیں ، نواز شریف کہتے ہیں مشرف کے معاملے پر زرداری میرے پاس ہے اگر جاتا تو اور بہت سے کام کرواتا اس معاملے سے میرا کیا تعلق ،فاٹا کا انضمام پاکستان اور عوام کے حق میں ہے تاریخی دن پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، امید ہے فاٹا نضمام کا معاملہ آگے بڑھے گا۔

(جاری ہے)

جمعہ کو پاکستان پیپلز پارٹی کا اہم اجلاس پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت زرداری ہائوس میں ہوا جس میں مرکزی اور صوبوں سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال ، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے فاٹا کے حوالے سے ترمیمی بل کی منظوری اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی دو روز قبل ہونیوالی پریس کانفرنس سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے دوران آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی کئی امور پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس کے بعد سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمن ، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر ، پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری ، پنجاب کے مرکزی رہنماء قمر زمان کائرہ ، چودھری منظور اور دیگر رہنمائوں کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 31 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر قوم ، پارلیمنٹرین، کے پی کے خاص طور پر فاٹا کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں، انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری میں جن سیاستدانوں نے حصہ لیا ہے وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں، سابق صدر نے کہا کہ فاٹا کا انضمام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سوچ تھی۔

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے بل کی مخالفت کے سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی عزت کرتا ہوں وہ سینئر سیاستدان ہیں، مولانا فضل الرحمن سے اب بھی مذاکرات کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ دس سال کے اندر فاٹاکا انضمام صوبے کے ساتھ کر دونگا، آج بہت بڑا دن ہے میں سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آج بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کا فاٹا کے بارے میں خواب پورا ہونے جارہاہے۔ امید رکھتا ہوں فاٹا انضمام کا معاملہ مزید آگے بڑھے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کی مخالفت چند لوگ اپنے ایجنڈے کی وجہ سے کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں صدر تھا تو ایوان صدر میں جرگہ بلایا تھا اور کہاتھا کہ فاٹا کا انضمام پاکستان اور عوام کے حق میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل سیاست میں ہی ہے۔ نواز شریف کی پریس کانفرنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ مشرف کے معاملے پر آصف علی زرداری میرے پاس آئے تھے میں اگر نواز شریف کے پاس جاتا تو اور بہت سے کام کرواتا ، اس معاملے سے میرا کیا تعلق ، بدقسمتی سے نواز شریف کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کا آرڈر پڑھیں، پرویز مشرف کو نوازشریف نے ہی باہر بھجوایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح نکالا۔مشرف کو نکالنا میرے لئے اشد ضروری تھا ۔انہوں نے کہا کہ میرے سامنے سب سے اہم مسئلہ مشرف کو ایوان صدر سے نکالنا تھا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں آصف زرداری نے نواز شریف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے انہیں ان ہائوس رکھنے کیلئے پنجاب دیا وہ پنجاب نہیں لے سکتے تھے۔میں چاہتا تو ان کی پنجاب میں حکومت نہیں بن سکتی تھی ۔

نگران وزیراعظم کے حوالے سے سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ نگران وزیراعظم کیلئے ریٹائر ججز کے نام نہیں دیئے، نگران وزیراعظم کے ناموں میں ایک بزنس مین ہیں اور ایک فارن سیکرٹری ہیں ۔ہم نے ایک بزنس مین اور بیورو کریٹ کا نام دیا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو آج افسوس ہو رہا ہے کہ ان کی بیٹی کٹہرے میں کھڑی ہے ،ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کتنا عرصہ کٹہرے میں کھڑی رہی مجھے مریم نواز کے کٹہرے میں کھڑے ہونے پر خوشی نہیںجب بھٹو کی بیٹی اور میری اہلیہ عدالتوں میں پیش ہوتی تھی تو یہ کیا کرتے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ بی بی کی پیشیوں کی مذمت کرتے تھے یا اس عمل کا حصہ ہوتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب بتائیں کہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا کسی اور کے ساتھ ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میرے لوگوں پر کیسز ہیں اور وہ اب بھی جیلوں میں ہیں ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں لیکن پاکستان کے ساتھ ہیں ۔ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے کہا کہ نعیم الحق کا دانیال عزیز کو تھپڑ مارنا سیاست کا اچھا باب نہیں ہے ایسے کام کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی ۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارتی جرنیل کی کتاب ابھی تک نہیں پڑھی اس کتاب کو پڑھ کر ضرور رد عمل دوں گا۔ نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اٴْنہوںنے کہاکہ میاں صاحب ڈبل گیم کھیلتے ہیں، ہمارے دور میں بھی وہ ہم سے گیمز کھیل رہے تھے اور آج بھی گیم کھیل رہے ہیں ،ْانہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی وجہ سے اٴْس وقت فاٹا کا انضمام نہ ہو سکا۔

آصف زرداری نے کہا کہ کچھ لوگ ذاتی ایجنڈے پر انضمام کے مخالف تھے کیونکہ اِن دوستوں کو اپنی اجارہ داری کے خاتمہ کا ڈر ہے۔آئی جے آئی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ جب جیل میں تھا تو میر ظفر اللہ خان جمالی حکومت سے پہلے مجھے پیش کش ہوئی تھی لیکن میں نے آئی جے آئی کی طرز کی پارٹی بننے سے انکار کر دیا تھا۔آصف زرداری نے کہا کہ عالمی برادری میاں برادران پر اعتماد کرنے کو تیار نہ تھی لیکن 2008 کے الیکشن میں ہم نے میاں صاحب کو پنجاب دیا، میں چاہتا تو ان کی پنجاب میں حکومت نہیں بن سکتی تھی۔

جنوبی پنجاب صوبے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ ضرور بنے گا، ایک دن سب جنوبی پنجاب کے حق میں ووٹ دیں گے۔عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ستھ اتحاد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر شریک چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تحریک انصاف اگر انتخابی اتحاد نہیں بنانا چاہتی تو ہم کیوں بنائیں گی

Your Thoughts and Comments