سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کو فوجی قیادت کی جانب سے جبری ریٹائر کروائے جانے کا انکشاف

جنرل ریٹائرڈ اسد درانی متنازعہ کاموں میں ملوث پائے گئے تھے، سابق آئی ایس آئی سربراہ سیاسی معاملات میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لے رہے تھے جس کے بعد انہیں جبری طور پر قبل از وقت ریٹائر کروایا گیا تھا: جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا دعوی

ہفتہ مئی 00:04

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء) جنرل ریٹائرڈ اجمد شعیب کا دعوی ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کو فوجی قیادت کی جانب سے جبری طور پر قبل از وقت ریٹائر کروایا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کی جانب سے اپنی تازہ ترین کتاب میں کیے جانے والے تہلکہ خیز انکشاف پر اب پاک فوج نے بھی ردعمل دے دیا ہے۔

عسکری ذرائع سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کی کتاب پر پاک فوج نے شدید ردعمل دیا ہے۔ اسد درانی کی جانب سے ان کی کتاب میں کیے جانے والے کئی تہلکہ خیز انکشافات کو حقائق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ ان حقائق کے منافی دعوے کرنے پر جنرل ریٹائرڈ اسد درانی پر ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کرتے ہوئے اسد درانی کو فوری جی ایچ کیو طلب کر لیا گیا ہے۔ جی ایچ کیو میں ان سے ان کی حالیہ کتاب میں کیے جانے والے دعووں سے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی۔ جبکہ ممکنہ طور پر ان کیخلاف کاروائی بھی عمل میں آ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی نے بھارتی خفیہ ادارے را کے سابق چیف کیساتھ مشترکہ طور پر لکھی گئی کتاب میں دعوی کیا ہے کہ پاکستان نے معاہدے کے تحت اسامہ بن لادن کو پکڑوایا۔

جبکہ پاکستان جلد کلبھوشن یادیو کو بھی چھوڑ دے گا۔ اس کے علاوہ بھی اس درانی کی جانب سے کئی تہلکہ خیز دعوے کیے گئے ہیں۔ ان دعووں پر فوجی قیادت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ فوج کے ضابطہ اخلاق کے تحت کسی بھی سابق فوجی افسر کو خلاف ورزی پر فوری طلب کرکے جواب طلبی کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کو بھی فوری جی ایچ کیو طلب کیا گیا ہے۔

جبکہ دوسری جانب اس تمام معاملے پر اب معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے۔ امجد شعیب کا دعوی ہے کہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی دوران ملازمت متنازعہ کاموں میں ملوث پائے گئے تھے۔ سابق آئی ایس آئی سربراہ سیاسی معاملات میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لے رہے تھے جس کے بعد انہیں جبری طور پر قبل از وقت ریٹائر کروایا گیا تھا۔ امجد شعیب مزید کہتے ہیں کہ اسد درانی ہمیشہ سے تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔ قومی مفادات کیخلاف جانے والے کسی بھی شخص کیخلاف سخت کاروائی کی جانی چاہیئے۔

Your Thoughts and Comments