کراچی میں تباہ کن ہیٹ ویو کا مقابلہ،

خیبرپختونخوا کا بلین ٹری سونامی منصوبہ قابلِ تقلید ہے،ڈاکٹر رمیش کمار شہر میں ہر عمارت کیلئے ایک درخت لازمی قرار دیا جائے،شجرکاری کا مضمون تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے، صحافیوں سے گفتگو

جمعہ مئی 14:42

کراچی/اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء)پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کراچی میں حالیہ تباہ کن ہیٹ ویو کے نتیجے میں ہونے والی اموات پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے، جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہاکہ ہیٹ ویو کا مقابلہ موثر شجرکاری کی بدولت کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے انہوں نے حکومت خیبر پختونخوا کے بلین ٹری سونامی منصوبے کا بطور خاص تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود مجموعی جنگلاتی علاقوں کا تقریباًً40 فیصد خیبر پختونخوا میں واقع ہے جہاں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی طرف سے صوبے بھر میں ایک ارب درخت لگانے کی مہم کامیابی سے جاری ہے، انہو ں نے مزید کہا کہ کراچی میں حالیہ ہیٹ ویو کے تناظر میں خیبرپختونخوا کے بلین ٹری سونامی منصوبے سے استفادہ حاصل کیا جائے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر رمیش کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہر عمارت کیلئے کم از کم ایک درخت کی موجودگی یقینی بنانی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر افراد کو گھروں کی چھتوں پر گرین روفنگ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر رمیش نے کہا کہ کراچی میں شجرکاری کیلئے درست مقامات کا تعین کرنے کیلئے عالمی ماہرین سے سروے کروایا جائے، انہوں نے نیم کے درخت کی شجرکاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایسے درختوں کی شجرکاری پر توجہ دینی چاہیے جو کم پانی کا استعمال کرتے ہیں اور زیادہ سایہ فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تغیرات ایک عالمی مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کیلئے عالمی برادری کو مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے، ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت ہیٹ ویو کا سامنا کرنے کی بجائے حقائق جھٹلانے میں مصروف ہے۔انہوں نے شجرکاری کا مضمون تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے سڑکوں پرموجود بھکاریوں، چھابڑی فروش، دکانداروں، مزدوروں، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں اور رکشہ ٹیکسی ڈرائیوروں کو ہیٹ ویو سے محفوظ رکھنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آگاہی فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

Your Thoughts and Comments