پیپلزپارٹی کی حکومت اپنے ہی دورمیں بھرتی کردہ 26ہزار سرکاری ملازمین کے معاشی مستقبل کا فیصلہ اور تنخواہیں جاری کیے بغیر 28 مئی کورخصت ہوجائیگی

اعلی قیادت کے پیرمظہرالحق،آغاسراج سمیت دیگروزراء سے اختلافات 26ہزارملازمین کے لیے تنخواہوں کے عدم اجراء کا سبب بنے ْحکومت سندھ مسئلہ کے حل کے لیے آخری لمحات میں بھی طاقتورخاتون رہنما کی اجازت کی منتظررہی مختلف محکموں کے ملازمین گذشتہ تین ماہ سے سندھ اسمبلی اورکراچی پریس کلب پرسراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں

جمعہ مئی 23:36

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء) پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ اپنے ہی دورمیں بھرتی کردہ 26ہزار سرکاری ملازمین کے معاشی مستقبل کا فیصلہ اور تنخواہیں جاری کیے بغیر 28 مئی کورخصت ہوجائے گی۔ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے پیرمظہرالحق،آغاسراج سمیت دیگروزراء سے اختلافات 26ہزارملازمین کے لیے تنخواہوں کے عدم اجراء کا سبب بنے۔

حکومت سندھ مسئلہ کے حل کے لیے آخری لمحات میں بھی طاقتورخاتون رہنما کی اجازت کی منتظررہی ۔ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر حکومت سندھ اپنے ہی دورمیں بھرتی کردہ 26 ہزارسرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور ایک لاکھ سے زائد کنٹریکٹ اورعارضی ملازمین کومستقل کیے بغیررخصت ہوجائے گی اور اپنے ہی د ور حکومت میں بھرتی کردہ چھبیس ہزارسرکاری ملازمین کے معاشی مستقبل کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہی، حکومت سندھ آخری لمحات میں بھی اس بات کی منتظررہی کہ شاید پیپلزپارٹی کی طاقتورخاتون رہنما ملازمین کے معاشی مستقبل کے پیش نظران کے لیے کوئی احکامات جاری کریں اب جبکہ حکومت سندھ ختم ہونے میں دوروزباقی ہیں پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کی طرف سے وزیراعلی ہائوس یا حکومت سندھ کوکوئی احکامات نہیں ملے ہیں اورمختلف محکموں کے ملازمین گذشتہ تین ماہ سے سندھ اسمبلی اورکراچی پریس کلب پرسراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔

(جاری ہے)

حکومت سندھ نے محکمہ بلدیات ،تعلیم اورصحت میں اخبارات میں اشتہارات کے بعد چھبیس ہزارسے زائد ملازمین بھرتی کیے ۔محکمہ بلدیات کے 13ہزار،محکمہ تعلیم کے 7ہزاراورمحکمہ صحت کے 6ہزارملازمین کو مستقل اسامیوں پربھرتی کیا گیا اور 2012ء سے انہیں تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ 2013ء میں اقتدارمیں واپسی پرحکومت سندھ نے صوبائی وزیرنثارکھوڑو ،وزیراعلی سندھ کی انشپیکشن ٹیم اور حکومت سندھ کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے بھرتی کیے گئے ملازمین کی تعلیمی اسناد چیک کرائیں تو 98فیصد ملازمین کی اسنا د درست ثابت ہوئیں اوربھرتی کا طریقہ کارطے شدہ قوانین کے مطابق پایا گیا اس دوران سی ایم انسپیکشن ٹیم نے سفارش کی کہ مستقل اسامیوں پربھرتی ہونے والے ملازمین کوفوری تنخواہیں جاری کی جائیں تاہم پیپلزپارٹی کی ایک طاقتورخاتون رہنما کے کہنے پرملازمین کی تنخواہیں روک دی گئیں۔

معتمد ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے سابق صوبائی وزراء پیرمظہرالحق اورسابق صوبائی وزیربلدیات آغاسراج درانی اوردودیگرصوبائی وزراء سے اختلافات کے سبب ملازمین 2012 سے تنخواہوں کے لیے دربدرہیں۔ بھرتی کیے جانے والے ملازمین کی تعلیمی اسناد کے لیے حکومت سندھ نے سندھ بینک کے پے آرڈرپرتعلیمی اسناد طلب کرکے متعلقہ تعلیمی بورڈ زکو تصدیق کے لیے ارسال کی تھیں۔

محکمہ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت نے ملازمین کا مسئلہ حل کرنے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے ۔وزیراعلی سندھ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت سے اجازت نہ ملنے پرتنخواہوں کے اجراء سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے اسطرح دوہزاربارہ سے تنخواہوں کے لیے دربدر حکومت سندھ کے چھبیس ہزارملازمین کو دربدر چھوڑ کرحکومت سندھ رخصت ہوجائے گی۔

دوسری جانب دوہزارتیرہ میں حکومت سندھ نے صوبے کے ایک لاکھ سے زائد عارضی اورکنٹریکٹ پربھرتی کیے گئے ملازمین کومستقل کرنے کے لیے سندھ اسمبلی سے بل منظورکرایا مگران کی مستقلی کا سندھ حکومت کے دسویں بجٹ میں بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ۔محکمہ خزانہ کے مطابق ملازمین کومستقل کرنے کا معاملہ وزیراعلی ہاس میں منظوری کا منتظرہے منظوری ملنے کے بعد ہی ملازمین کومستقل کیے جانے اوران کی تنخواہوں اورمراعات سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا واضح رہے کہ عارضی اورکنٹریکٹ ملازمین کومستقل کرنے کے لیے سندھ اسمبلی سے بل بھی پاس کرایا گیا تھا لیکن حکومت سندھ اپنے ہی پاس کردہ بل پرعملدرآمد نہ کرسکی۔

Your Thoughts and Comments