سید مراد علی شاہ اورسید قائم علی شاہ کی پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کو وزیراعلی ہائوس میں اپنی اپنی حکومتی کارگردگی پرتفصیلی بریفنگ

ہفتہ مئی 22:09

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ مئی ء)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اورسابق وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اورپیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے سربراہ ،سابق صدرمملکت آصف علی زرداری کو وزیراعلی ہائوس میں اپنی اپنی حکومتی کارگردگی پرتفصیلی بریفنگ دی اورگذشتہ پانچ برسوں میں سندھ حکومت کی کامیابیوں اورفلاحی منصوبوں پرروشنی ڈالی۔

اس موقع پرپارٹی قیادت کے اعزاز میں وزیراعلی ہائوس میں افطارڈنرکا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ افطارعشائیہ میں یپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سابق صدرمملکت آصف علی زرداری ایم این اے فریال تالپور،خورشید شاہ،رحمن ملک ، فرحت اللہ بابر اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی اورپیپلزپارٹی کے دیگرمرکزی اورصوبائی رہنما بھی اس موقع پرموجود تھے۔

(جاری ہے)

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں نے وزرا اعلی سندھ سے بریفنگ لینے کا ارادہ کیا تو میں نے سوچا کیوں نہ میڈیا کے سامنے بریفنگ لوں۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ ہم قائداعظم محمد علی جناح، ذوالفقار علی بھٹو شہید اور شہید بینظیر بھٹو کیبتائیہوئیراستیپرگامزن ہیں،وفاق نے سندھ کو ہرسال کم رقم فراہم کی،وعدیپورینہیں کیے، وفاق کو رواں سال میں ہمیں 167 روپیفراہم کرنیہیں جس میں ابھی شارٹ فال ہے اوروفاق نے ابھی تک ہمیں 167 ارب روپے نہیں دیے۔

انہوں نے کہاکہ امن وامان کیبغیرترقی ناممکن ہے،سندھ حکومت نے قیام امن کیلییبہت کام کیااوراغوابرائے تاوان کی وارداتوں میں نمایاں کمی ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ 2008 میں حکومت آئی تو امن و امان بڑا مسئلہ تھا اور2013 میں امن وامن کی صورتحال کافی خراب تھی، کراچی میں امن و امان کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے، ہم نے کراچی میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرائی اورکراچی کی روشنیاں دوبارہ بحال کرکیکراچی سے خوف اوردہشت گردی کاخاتمہ کردیا اب تو کراچی میں رات کو بھی لوگ گھومتے ہیں، لیکن اسٹریٹ کرائم پرابھی کام کرنا ہے انہوں نے کہاکہ اپیکس کمیٹی کے سب سے زیادہ اجلاس سندھ میں ہوئے،کراچی سے خوف اور دہشت گردی کا خاتمہ کردیا گیا۔

انھوں نے چیئرمین کو بتایا کہ بوہری جماعت کے روحانی پیشوا سیدنا سیف الدین کراچی میں ایک ماہ اپنے مریدین کے ہمراہ گزار گئے ہیں ان کے ساتھ فارینرز نے امن و امان کی تعریف کی۔ سندھ میں امان و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے، اپیکس کمیٹی کے سب سے زیادہ اجلاس سندھ میں ہوئے۔ انھوں نے چیئرمین کو بتایا کہ سندھ ریونیو بورڈ کی وصولیوں میں اچھی کاکردگی رہی۔

شعبہ صحت میں انھوں نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ ادوایات کی خریداری 4ارب سیبڑھاکر10ارب کردی ہے، ایس آئی یوٹی،این ائی سی وی ڈی میں پوریملک سیمریض ہوتے ہیں، ایس آئی یو ٹی کیلے 2013 میں صرف 2 ارب روپے رقم مختص تھے لیکن رواں سال ایس آئی یو ٹی کو ساڑھے 5 ارب روپے دیں گے، ہمیں فخر محسوس ہوتا ہے بتاتے ہوئے کہ ایس آئی یو ٹی سندھ میں پچاس فیصد سے زیادہ تعداد سندھ کے باہر کے مریضوں کی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی ٹھٹہ ڈبل وے پچاس کلومیٹر کا روڈ تعمیر کیا،دریائے سندھ پر وفاقی حکومت پل بناتی ہے لیکن سندھ میں دریائے سندھ پر صوبائی حکومت نے پلیں بنائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے 947 میگاواٹ کے منصوبے کا م کررہے ہیں۔ انھوں نے چیئرمین کو بتایا کہ سانگھڑ کو اپنا کہنے والوں نے سڑکوں کا حال خراب کردیا تھا اورہم نے سانگھڑ میں سڑکیں تعمیر کی ہیں ہم نے 70 سال بعد سانگھڑ کو سڑکیں دیں،میں اپکو دعوات دیتا ہوں کہیں سے بھی سانگھڑ چلے جائیں، طارق روڈ کوچالیس سال بعد بنایا کراچی میں میگامنصوبوں پرکام جاری ہے شارع فیصل کا ترقیاتی منصوبہ مکمل کیا ہے صرف سڑکیں نہیں بنائیں سیوریج لائن بھی درست کیں۔

سید مراد علی شاہ نے کہاکہ ایس آئی یو ٹی کیلے 2013 میں صرف 2 ارب روپے رقم مختص تھی،رواں سال ایس آئی یو ٹی کو ساڑھے 5 ارب روپے دیں گے،ایس آئی یو ٹی میں پچاس فیصد سے زیادہ تعداد سندھ کے باہر کے مریضوں کی ہے، سندھ حکومت واحد صوبائی حکومت ہے جس نے دریائے سندھ پر پل بنائے،سندھ حکومت نے ٹھٹہ سجاول پل تعمیر کیا،ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے 947 میگاواٹ کے منصوبے کا م کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ بلین ٹری سونامی نے کئی ریکارڈ توڑے مگر سامنے نہیں آسکے، دو سال میں ہر روز ریکارڈ بنائیں تبھی ایک ارب درخت لگانے کا خواب حقیت بن سکتا ہے۔

سابق وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ اپنے دورحکومت میں بیروزگار تین لا کھ افراد کو ملازمتیں دی ہیں،یوتھ کو بامقصد بنانے کیلئے سندھ حکومت نے اچھے انقلابی اقدامات کیے ہیں،صحت کے شعبوں میں بہت کام کیاہے،پی پی ایچ کے تحت سندھ بھر میں کام کیاجارہاہے۔قائم علی شاہ نے کہاکہ ہم نے حکومت میں آنے کے بعد ہزاروں افراد کو روزگار دیا سندھ میں پہلی لا یونیورسٹی قائم کی پورے ملک میں کہیں بھی لا یونیورسٹی نہیں ہے سوائے سندھ کے کراچی میں سول ٹراما سینٹر کا قیام ایک شاندار کارنامہ ہے ،ٹراما سینٹر میں علاج کی ہر سہولت موجود ہے ،پورے صوبے میں صحت کے مراکز پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت ٹھیک کئے،صوبے میں دس سال کے دوران پندرہ جامعات قائم کیں جو کام کررہی ہیں ،گیارہ جامعات پچھلے دور میں چار جامعات موجودہ دور میں قائم. کیں انہوں نے کہاکہ تھر میں تقریبا 800کلومیٹر شاہراہیں بنائیں۔

Your Thoughts and Comments