چین پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لئے 2ارب ڈالر فوری قرض فراہم کرے گا

انتخابات سے قبل پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ سے دوبارہ قرض لینا پڑے گا،مالیاتی ماہرین فوجی اور سیاسی قیادت مابین کشیدگی کے تناظر میں ملکی مالیاتی صورت حال شدید دبائو کا شکار ہے،عالمی مبصرین

ہفتہ مئی 23:05

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ مئی ء)چین پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لئے 2ارب ڈالر فوری قرض فراہم کرے گا،پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں کا حجم 5 ارب ڈالر کو چھونے کو ہے،انتخابات سے قبل پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ سے دوبارہ قرض لینا پڑے گا،فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے تناظر میں ملکی مالیاتی صورت حال شدید دبا کا شکار ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین سے ایک تا دو ارب ڈالر کے فوری قرضے حاصل کیے جا رہے ہیں، تاکہ حکومتی اخراجات اور ادائیگیوں کا چیلنج حل کیا جا سکے۔خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین سے نئے قرضوں کا حصول چین پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے انحصار کا ایک اشارہ بھی ہے۔

(جاری ہے)

جون میں ختم ہونے والے رواں مالی سال تک چین اور اس کے بینکوں کی جانب سے پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں کا حجم پانچ ارب ڈالر کو چھونے والا ہے۔

چین کی جانب سے پاکستان کو قرضے ایک ایسے موقع پر دیے جا رہے ہیں، جب امریکا تعلقات میں کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو دی جانے والی امداد میں مسلسل کٹوتی کر رہا ہے۔روئٹرز کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مئی 2017 میں 16.4 ارب ڈالر تھے، جو اب 13.3 ارب ڈالر تک گر چکے ہیں اور ایسے میں چینی قرضوں کی مدد سے اس صورت حال میں کچھ بہتری کی کوشش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ابھی اپریل ہی میں چینی تجارتی بینکوں کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو ایک ارب ڈالر کا قرضہ دیا گیا ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر میں اس تیزی سے کمی اور پاکستان کے کرنٹ اکانٹ خسارے کے تناظر میں مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر جولائی میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ سے دوبارہ قرض لینا پڑے گا۔

مبصرین کے مطابق پاکستان میں فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے تناظر میں ملکی مالیاتی صورت حال شدید دبا کا شکار ہے۔روئٹرز نے ایک حکومتی عہدیدار سے بات چیت کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان بیجنگ حکومت کے ساتھ حساس بات چیت میں مصروف ہے، جس کے تحت دو ارب ڈالر تک کا اضافی قرضہ پاکستان کو مل سکتا ہے۔ اس موضوع پر پاکستان یا چین کی وزارت خزانہ کی جانب سے باقاعدہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

Your Thoughts and Comments