نابالغ لڑکی سے جسم فروشی کروانے پر پاکستانی مرد اور خاتون کو سزا

مجرموں کی سزا کی معیاد ختم ہونے کے بعد فوری مُلک بدری کے احکامات

ہفتہ مئی 19:25

دُبئی (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ مئی ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے تین مرد اور ایک خاتون کو سترہ سالہ لڑکی سے جسم فروشی کروانے کے جُرم میں تین تین سال قید کی سزا سُنائی گئی ہے‘ اس سزا میں انسانی سمگلنگ کی فردِ جُرم بھی عائد کی گئی ہے۔ عدالت نے چاروں پاکستانی مجرموں پر ایک ایک لاکھ اماراتی درہم کا جُرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

مجرموں کی ایک ساتھی 24 سالہ خاتون جو کہ فی الحال پولیس کی گرفت میں نہیں آسکی‘ اُس کی غیر حاضری میں ہی اُسے سزا سُنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور 24 سالہ پاکستانی مرد کو مذکورہ نابالغ لڑکی کے ساتھ زنا بالرضا کے جُرم میں چھ ماہ قید کی سزا سُنائی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مجرمان نابالغ لڑکی کو پاکستان سے دُبئی جسم فروشی کی غرض سے لائے تھے۔

(جاری ہے)

مجرمان نے لڑکی کو دُبئی میں واقع ایک فلیٹ میں رکھا تھاجو قحبہ خانہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ اس فلیٹ میں ایک اور خاتون بھی جسم فروشی کے دھندے میں ملوث تھی۔تفصیلات کے مطابق دُبئی پولیس نے 14جنوری 2018ء کو البراہا میں واقع مذکورہ فلیٹ کو بطور قحبہ خانہ استعمال کرنے کی مخبری پر چھاپہ مارا تھا۔ اس حوالے سے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ہمیں اطلاع دی گئی تھی کہ نابالغ لڑکی جسم فروشی کے دھندے میں استعمال کی جا رہی ہے۔

جس کے بعد ہم نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے سیکشن کی مدد سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی اور فلیٹ کی نگرانی شروع کر دی گئی۔ اطلاعات کی تصدیق ہونے پر دُبئی پولیس نے مجرموں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیے چھاپہ مارنے کا فیصلہ کیا۔ شام کے ساڑھے سات بجے کے قریب ایک پولیس افسر عام شہری کے رُوپ میں فلیٹ پر گیا۔ اس موقع پر اُس کے پاس 100 درہم کی رقم بھی موجود تھی۔

اس دوران مخبر اور دُوسرے پولیس اہلکار فلیٹ سے کچھ فاصلے پر کھڑے رہے۔ شہری کا رُوپ دھارے پولیس اہلکار نے قحبہ خانہ والوں سے کہا کہ وہ جنسی ہوس مٹانے کی غرض سے۔ اس پر جب مرکزی ملزم اُسے فلیٹ میں واقع ایک کمرے میں لے کر جانے لگا تو پولیس افسر نے ہمیں چھاپہ مارنے کا اشارہ کر دِیا۔تفتیش کے دوران نابالغ لڑکی نے استغاثہ کو بتایا کہ مجرموں کی ساتھی خاتون نے پچھلے سال دسمبر کے مہینے میں پاکستان میں اُس کے ساتھ جسم فروشی کا معاہدہ کیا تھا۔

لڑکی کے مطابقخاتون نے مجھے جسم فروشی کا دھندہ اختیار کرنے کی پیشکش کی جسے میں نے قبول کر لیا۔ مگر اپنی والدہ کو یہی بتایا کہ میں دبئی میں سیلز گرل کی جاب کرنے جا رہی ہوں۔ اس سے پہلے میں پاکستان میں بھی گھر کے خراب معاشی حالات کے باعث جسم فروشی میں ملوث رہی تھی۔ مجرموں کی ساتھی خاتون مجھے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مِلی اور وہاں سے البراہا میں واقع ایک فلیٹ میں لے آئی۔

جہاں مجھے بتایا گیا کہ میرے ساتھ ایک اور خاتون بھی جسم فروشی کا دھندہ کرے گی۔اس خاتون نے مجھے کہا کہ جسم فروشی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا پچاس فیصد وہ اور اُس کے ساتھی رکھیں گے کیونکہ ویزہ اور ٹکٹ کی مد میں پیسے اُنہوں نے خرچے ہیں۔ لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ تقریباً ہر روز دس کے قریب افراد جنسی خواہش پُوری کرنے کے لیے فلیٹ پر آتے تھے جن میں زیادہ تر ایشین ہوتے تھے۔

اُسے موبائل فون کی سہولت میسر تھی جس پراُس کی ہر روز اپنے والدین سے بات ہوتی رہتی تھی۔ عدالت نے مجرمان کی سزا پُوری ہونے کے بعد انہیں فوری مُلک بدر کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں اور جس فلیٹ کو قحبہ خانے کے طور پر چلایا جا رہا تھا‘ اُسے بھی استغاثہ کی درخواست پر فی الحال بند رکھنے کا حُکم سُنایا ہے۔

Your Thoughts and Comments