جنرل (ر) اسد درانی کی جی ایچ کیو طلبی کے بعد پارلیمنٹ نوازشریف کو طلب کرے ،محمد علی درانی

شخصی اقدامات پر اداروں کے خلاف جنگ کرنا سنگین حماقت ہے، یکساں اور موثر ضابطہ اخلاق مرتب کیاجائے ْ اصغرخان کیس کی موجودگی میں فوج کے خلاف باتیں کرنے والوں کوکچھ شرم، کچھ حیا توآنی چاہئے سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو غدار، سکیورٹی رسک کے سرٹیفیکیٹ خود تقسیم کئے، اس پر معافی مانگی ، بدترین خاندانی آمریتیں اور جھولے میں پلتی قیادتوں کے زیرسایہ جمہوریت کی باتیں زیب نہیں دیتیں،سابق وفاقی وزیر اطلاعات کی میڈیا سے گفتگو

ہفتہ مئی 23:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ مئی ء) سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کی جی ایچ کیو طلبی کے بعد پارلیمنٹ نوازشریف کو طلب کرے اور ان کے بیانات پر ان کے خلاف کاروائی کرے۔ قومی سلامتی کے بارے میں یکساں اور موثر ضابطہ اخلاق مرتب کیاجائے جو سب پر لاگو ہو۔

ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہاکہ شخصی اقدامات پر اداروں کے خلاف جنگ کرنا سنگین حماقت ہے۔ داخلی انتشار علاقائی اور عالمی تناظرمیں یہ دانشمندی ہے نہ ہی پاکستان اس کا متحمل ہوسکتا ہے۔ محمد علی درانی نے کہاکہ سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو غدار، سکیورٹی رسک کے سرٹیفیکیٹ خود تقسیم کئے۔ کیا سیاستدانوں نے اس پر قوم سے اور ایک دوسرے سے معافی مانگی اصغرخان کیس کی موجودگی میں فوج کے خلاف باتیں کرنے والوں کوکچھ شرم، کچھ حیا توآنی چاہئے۔

(جاری ہے)

دینے والوں نے غلط کیا تو لینے والوں نے کون سا اعلی اخلاقی اصول ثابت کیا فوج کو نشانہ بنانے سے پہلے اپنے ماضی اور حال کا خلاصہ کرنا چاہئے۔ بدترین خاندانی آمریتیں اور جھولے میں پلتی قیادتوں کے زیرسایہ جمہوریت کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ سیاسی مفادات کے لئے اداروں سے سازباز کرنے والوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا پڑے گا۔ محمد علی درانی نے کہاکہ سیاسی بقا کے لئے فوج کو گالیاں نکالنے سے صرف پاکستان دشمنوں کا فائدہ ہوگا اور بیرون ملک اچھی قیمت لگوانے میں مدد مل رہی ہے۔

Your Thoughts and Comments