مہناج یونیورسٹی ویڈیو اسکینڈل، ہوسٹل میں رہنے والی طالبات کو سخت سزا سنا دی گئی

خرم نواز گنڈا پور کی ویڈیو لیک کرنے پر 320 طالبات کو ہاسٹل سے نکال دیا گیا

اتوار مئی 17:21

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء) پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کی منہاج القرآن کے ہوسٹل کی طالبات کو جھاڑ پلانے کی ویڈیو سامنے آئی تو یونیورسٹی  انتظامیہ نے خرم نواز گنڈا پور کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ہوسٹل کی طالبات کو ہی قصور وار ٹھہرا دیا۔اورہوسٹل میں رہنے والی طالبات کو سزا دینے کا فیصلہ کر لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خرم نواز گنڈا پور کی ویڈیو لیک کرنے پر 320 طالبات کو ہاسٹل سے نکال دیا گیا جب کہ کئی طالبات کو 31مئی تک کا وقت دیا گیا ہے جب کہ دوسری طرف مہناج القرآن یونیورسٹی میں طالبات کو ہاسٹل خالی کرانے کے خلاف والدین نےاحتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری بیٹیاں بے قصور ہیں ان کو ہاسٹل سے نہ نکالاجائے ۔

(جاری ہے)

والدین کا کہنا تھا کہ اگر لڑکیوں نے باہر جانے کی اجازت مانگی تھی تو اس پر اس طرح کا رویہ اختیار کرنا ٹھیک نہیں اور ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ طالبات کو ہاسٹل میں رہنے دیا جائے۔

والدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر مہناج القران یونیورسٹی نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کردیا جائے گا۔طالبات کے والدین کا کہنا ہے کہ جن بچیوں کا قصور ہے ان کو نکالا جائے باقی سب کو نہیں، پرائیوٹ ہاسٹل کا خرچہ کہاں سے برداشت کریں گے۔ دوسری جانب طالبات کا کہنا ہے کہ چند طالبات کی حرکت کی سزا باقی طالبات کیوں بھگتیں، انتظامیہ کو چاہیے کہ انصاف سے فیصلہ کرے اور معاملے کی تہہ تک پہنچ کر قصور وار طالبات کے خلاف کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان عوامی تحریک کے رہنما اور منہاج القرآن یونیورسٹی ہاسٹل کے منتظم خرم نواز گنڈا پور کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں خرم نواز گنڈا پور کومنہاج القرآن یونیورسٹی کی طالبات پر غصے سے برستے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔

Your Thoughts and Comments