جمعیت علمائے اسلام (ف) کی بھرپور مخالفت اور احتجاج کے باوجود خیبر پختونخوا اسمبلی نے فاٹا کے صوبے میں انضمام سے متعلق بل منظور کر لیا

بل کی حمایت میں 92اور مخالفت میں 7 ووٹ پڑے ،ْ بل کی شق وار منظوری کے عمل کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اراکین اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے فاٹا میں بلدیاتی انتخابات اس ہی سال کرائے جائیں گے جبکہ عام انتخابات اگلے سال ہوں گے ،ْ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اگلے مرحلے میں بلوچستان کے پشتون قوم کو قومی دھارے میں لائیں گے ،ْسربابر حسین

اتوار مئی 21:30

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء)جمعیت علمائے اسلام (ف) کی بھرپور مخالفت اور احتجاج کے باوجود خیبر پختونخوا اسمبلی نے بھی فاٹا کے صوبے میں انضمام سے متعلق بل منظور کر لیا ،ْبل کی حمایت میں 92اور مخالفت میں صرف ووٹ پڑے ،ْ بل کی شق وار منظوری کے عمل کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اراکین اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔

اتوار کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کا آغاز اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، اس موقع پر وزیر اعلی پرویز خٹک اور اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمن بھی موجود تھے۔اسمبلی میں اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے بل کے مخالفین سے گزارش کی کہ بل کے حق میں اتحاد کرلیں۔انہوںنے کہاکہ فاٹا میں بلدیاتی انتخابات اس ہی سال کرائے جائیں گے جبکہ عام انتخابات اگلے سال ہوں گے۔

(جاری ہے)

بعد ازاں صوبائی اسمبلی میں فاٹا انضمام بل وزیر قانون امتیاز شاہد نے پیش کیا، جس پر جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) اور صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقے (پاٹا)، دونوں ہی دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔عنایت اللہ نے مطالبہ کیا کہ آئندہ 10 سال کے لیے فاٹا اور پاٹا کو ٹیکس سے چھوٹ دی جائے ،ْ نظام شریعہ کو پاٹا میں دوبارہ لاگو کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاٹا کو ایک سو ارب روپے کا پیکج دیا جانا چاہیے تاکہ اس علاقے کو بھی پسماندگی سے نکالنا جاسکے۔علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے پارلیمانی لیڈر سید محمد علی شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال جے یو آئی (ف) کی وجہ سے فاٹا انضمام میں تاخیر ہوئی، اگر ڈھائی سال جے یو آئی نے شریعت کیلئے کچھ کیا ہوتا تو پورے ملک میں شریعت نافذ ہوچکی ہوتی۔

اس موقع پر جے یو آئی کے ارکان صوبائی اسمبلی نے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کے خلاف نعرے لگائے جبکہ جے یو آئی کے مفتی سید جانان اور سید محمد علی شاہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے درمیان لکیر قدرتی نہیں بلکہ کھینچی گئی تھی۔

انہوںنے کہاکہ فاٹا ملک کا حصہ تھا اس لیے پاکستان میں موجود پشتون قوم کو قومی دھارے میں لائیں گے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پشتون قوم کو ایک پلیٹ فارم ہر لانا عوامی نیشنل پارٹی کا حدف ہے۔سردار حسین بابک نے کہا کہ اگلے مرحلے میں بلوچستان کے پشتون قوم کو قومی دھارے میں لائیں گے۔ادھر صوبائی اسمبلی میں ناراض اراکین نے ہنگامہ آرائی کی، اس موقع پر رکن اسمبلی قربان علی خان نے کہا کہ مجھے بھی سن لیا جائے، آج سچ اور راز کی باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔

اس موقع پر ہارس ٹریڈنگ کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے نکالے گئے اراکین اسمبلی نے بھی ہنگامہ آرائی کی جبکہ خواتین اراکین نے بھی احتجاج ریکارڈ کرایا۔ارکان صوبائی اسمبلی ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے رہے اور اس موقع پر اسپیکر ایوان کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔صوبائی اسمبلی میں اراکین کے احتجاج کے پیش نظر اسپیکر نے کہا کہ اہم دن ہے اراکین برداشت سے کام لیں۔

قبل ازیں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے خیبرپختونخوا اسمبلی جانے والی سڑک پر ٹائر جلائے اور اسے دھرنا دے کر بلاک کر دیا تھا، اطلاعات کے مطابق جے یو آئی (ف) کے کارکنان صوبائی اسمبلی کے دروازوں کے قریب بھی دھرنا دے کر بیٹھے گئے تھے جس کی وجہ سے اسمبلی میں داخلی راستہ مکمل طور پر بند ہوگیا تھا۔اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ اور ہاتھاپائی ہوئی جبکہ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، تاہم پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا جس میں جے یو آئی (ف) کے کارکنان زخمی بھی ہوئے، جبکہ کارکنان وہاں سے منتشر ہوگئے۔

جے یو آئی (ف) کے مشتعل کارکنان نے ڈان نیوز کی گاڑی پر بھی حملہ کیا جس سے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔یاد رہے کہ 24 مئی کو فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کا بل حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔قومی اسمبلی میں فاٹا کے انضمام کے حوالے سے ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بھی شرکت کی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کے لیے رائے شماری کی گئی جس کی حمایت 229 میں اراکین نے ووٹ دیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ایک روز بعد سینیٹ میں بھی 31ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی گئی۔

Your Thoughts and Comments