ڈی جی انٹیلی جنس ایند انوسٹی گیشن (کسٹمز) کے خلاف تحقیقات کا آغاز

ْ اختیارات کا ناجائز استعمال کر تے ہوئے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا،زرائع

اتوار مئی 23:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء) ڈائر یکٹر جنرل انٹیلی جنس و انوسیٹی گیشن (کسٹمز) کے خلاف نیب نے تحقیقات کاآغاز کر دیا۔ شوکت علی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر تے ہوئے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ ان کے خلاف احتساب عدالت میں نیب کی جانب سے کمپلینٹ دائر کر دی گئی ہے۔

جس میں نیب نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایف بی آر نے 2011 شوکت علی کو بطور کلیکٹر ، ماڈل کسٹمز کولیکٹریٹ فیصل آباد تعینات کیا۔ او ربعد ازاں 2016 میں ڈی جی کسٹمز انٹیلی جنس اسلام آباد لگایا گیا۔ ان دونوں ادوار کے دوران شوکت علی نے سرکاری عہدے کا بے دریغ استعمال کیا اور کرپشن کے ذریعے قومی خزانے کو اربورں روپے کا نقصان پہنچاتے ہوئے ڈیوٹی ٹیکسز معاف کئے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شوکت علی نے ایک غیر قانونی سکیم انسنٹیو سسٹم ڈرائے پور ٹ فیصل آباد پر متعارف کرائی جس کے تحت امپورٹر اور کلینئر نگ ایجنٹس کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ غلط بیانی کرتے ہوئے اپنی امپورٹ شدہ گڈز کے لئے بوگس دستاویزات پیش کرے شوکت علی نے یہ غیر قانونی مجرمانہ سیل کرتے ہوئے کنٹینز کو اپنی غیر قانونی سکیم کے تحت کلیئر کیا رپورٹ میں پتہ چلا ہے کہ شوکت علی کی سکیم کے تحت تین بڑے آئٹم امپورٹ کرنے پر غیر قانونی چھوٹ دی گئی جس میں استعمال شدہ اور پرانی مشینٹری اور فیبرکس اور صابن شامل ہیں۔

(جاری ہے)

شوکت علی کے دور میں کنٹینر کی باقائدہ طور پر تفتیش نہیں کی جاتی تھی اور انہیں پاس کر لیا جاتا تھا جس کی نتیجے میں 1188 کنٹینر میں سے 604 کنٹیز کو ایک دن میں کلیئر کیا گیا اندازے کے مطابق ان کنٹینر پر لگنے والا ٹیکس 630,325 فی کنٹینر تھا ۔ اوسطاً 76 کنٹینر استعمال شدہ مشینری ڈرائی پورٹ فیصل آباد پر شوکت علی کے دور میں کلیئر کی گئی اگربعد کے ادوار کے ساتھ اس کا معاوزنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فروری 2014 جولائی 2014 تک 310 میں سے ایک کنٹینر بھی پرانے او راستعمال شدہ مشینری کا کلیئر نہیں کیا گیا جو ثابت کرتا ہے کہ شوکت علی کے دور میں اختیار کا بے دریغ استعمال کر کے کنٹینر کلیئر کے گئے اور قومی خزانے کو نقصان دیا گیا ۔

ان اعداد و شمار کے روشنی میں ایف بی آر کی انکوائری کمیٹی میں اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ شوکت علی نے ڈیوٹی اور ٹیکس معاف کرتے ہوئے ایک میگا اور منظم فراڈ کیا گیا ہے جس میں کلیٹریکٹ کی سینئر انتظامیہ کے شامل ہونے کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔2013 PCA انکوائری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شوکت علی کی انسٹیو سسٹم سکیم نے غیر قانونی طور پر کنسائمنٹس کو کلیئر کیا اور تمام قوانین کو بالائے طاق رکھا گیا یہ بھی انکشاف ہو اہے کہ شوکت علی نے اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے اپنے ماتحت سٖٹاف کے ذریعے بوگس رجسٹر بنایا جس میں ٹیکس اور دوسری ہائی ایس کرپشن کو چھپانے کی کوشش کی گئی ۔

شوکت علی جب فیصل آباد میں تعینات تھے انہوں نے اپنے چند دوستوں کو نوازتے ہوئے چند ٹیوٹا ہائزشٹ وین آکشن کرائی جن کے زریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ۔ نیب نے چیئر مین نے ایک احتساب عدالت کو استدعا کی ہے کہ ڈی جی نیب لاہور کو حکم دیا جائے کہ وہ مشتاق سرگانہ کے خلاف تحقیات کا آغاز کریں جو شوکت علی کے قریبی ساتھی اور فیصل آباد مین رشوت کے لین دین میںمبینہ طور پر ملوث ہیں۔ یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ ایک سیاسی سخصیت جس کی شوکت علی کو پشت پناہی حاصل تھی اس کے خلاف بھی تحقیات کا آغاز کیا جائے ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments