صدر مملکت کے فاٹا انضمام بل پر دستخط‘ فاٹا باضابطہ طور پر خیبرپختونخوا میں ضم ہوگیا

2023 میں فاٹا کی نشستیں چھ ہوں گی، 2018 کے انتخابات میں بارہ ہی رہیں گی،فاٹا کو پانچ سال کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، خیبر پختونخواہ کا قومی اسمبلی میں موجودہ حصہ 39 سے بڑھ کر 45 نشستیں ہو جائے گا،سینٹ میں فاٹا کی 8 نشستیں ختم ہوجائیں گی،ہی سینٹ اراکین کی کل تعداد 104 سے کم ہوکر 96 ہوجائے گی

پیر مئی 18:39

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء) صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی ، سینیٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظوری کے بعد فاٹا انضمام بل پر دستخط کردیئے‘ فاٹا باضابطہ طور پر خیبرپختونخوا میں ضم ہوگیا، 2023 میں فاٹا کی نشستیں چھ ہوں گی، 2018 کے انتخابات میں بارہ ہی رہیں گی، اس معاملے کے لئے عمل درآمد پر وقت درکار ہوگا،فاٹا کو پانچ سال کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، خیبر پختونخواہ کا قومی اسمبلی میں موجودہ حصہ 39 سے بڑھ کر 45 نشستیں ہو جائے گا۔

سینٹ میں فاٹا کی 8 نشتیں ختم ہوجائیں گی اور اس کے ساتھ ہی سینٹ اراکین کی کل تعداد 104 سے کم ہوکر 96 ہوجائے گی۔ پیر کو صدر مملکت ممنون حسین نے فاٹا انضمام بل پر دستخط کرد یئے ہیں جس کے بعد فاٹا باضابطہ طور پر خیبرپختونخوا میں ضم ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

2023 میں فاٹا کی نشستیں چھ ہوں گی جبکہ 2018 کے انتخابات میں بارہ ہی رہیں گی۔ اس معاملے کے لئے عمل درآمد پر وقت درکار ہوگا۔

فاٹا کو پانچ سال کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ 24 مئی کو فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کا بل حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن)اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔قومی اسمبلی میں فاٹا کے انضمام کے حوالے سے ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی شرکت کی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کے لیے رائے شماری کی گئی جس کی حمایت 229 میں اراکین نے ووٹ دیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ایک روز بعد سینیٹ میں بھی 31ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی گئی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی نے بھی فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق بل دو تہائی اکثریت سے منظور کیا ، بل کی حمایت میں 92 اور مخالفت میں صرف 7 ووٹ پڑے۔

واضح رہے کہ فاٹا اصلاحات بل کے تحت سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار قبائلی علاقوں تک بڑھایا جائے گا جبکہ ملک میں رائج قوانین پر فاٹا میں عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔اس کے علاوہ ایف سی آر قانون کا خاتمہ ہوجائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ صدرِ پاکستان اور گورنر خیبرپختونخوا کے خصوصی اختیارات بھی ختم ہوجائیں گے۔فاٹا میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور صوبوں کے اتفاق رائے سے فاٹا کو قابلِ تقسیم محاصل سے اضافی وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔

فاٹا بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں فاٹا کی نشتیں 12 سے کم ہوکر 6 ہوجائیں گی، جبکہ خیبر پختونخواہ کا قومی اسمبلی میں موجودہ حصہ 39 سے بڑھ کر 45 نشستیں ہو جائے گا۔سینٹ میں فاٹا کی 8 نشتیں ختم ہوجائیں گی اور اس کے ساتھ ہی سینٹ اراکین کی کل تعداد 104 سے کم ہوکر 96 ہوجائے گی۔اسی طرح قومی اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 342 سے کم ہوکر 336 ہوجائے گی جن میں جنرل نشستیں 226، خواتین کے لیے 60 جبکہ اقلیتی نشستیں 10 ہوں گی۔

بل کے مطابق 2018 کے انتخابات پرانی تقسیم کے تحت ہی ہوں گے، اور قومی اسمبلی میں منتخب ہونے والے 12 اراکین اپنی مدت پوری کریں گے۔اس کے علاوہ 2015 اور 2018 کے سینٹ انتخابات کے منتخب 8 سینٹ اراکین اپنی مدت پوری کریں گے۔2018 میں عام انتخابات کے ایک سال کے اندر فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوں گے، اور فاٹا انضمام کے بعد خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اراکین کی تعداد 124 سے بڑھ کر 145 ہوجائے گی۔فاٹا انضمام کے بعد خیبرپختونخوا میں فاٹا کی 21 نشستیں مختص ہوں گی، جس میں 16 عام نشستیں، خواتین کے لیے 4 نشستیں جبکہ ایک اقلیتی نشست شامل ہوگی۔

Your Thoughts and Comments