پاک فوج نے جنرل (ر)اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے مجاز اتھاڑی سے رابطہ کر لیا

معاملے کی مکمل تحقیقات کیلئے ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں کورٹ آف انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا ٹوئٹ سیکرٹری داخلہ نے اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے ہدایات بھی جاری کر دیں

پیر مئی 22:28

راولپنڈی/اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے مجاز اتھارٹی سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کو حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب 'دی اسپائے کرونیکلز' میں خود سے منسوب خیالات کی وضاحت کے لیے جی ایچ کیو طلب کیا گیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں کورٹ آف انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے مجاز اتھارٹی سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے سابق آئی ایس آئی سربراہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے حکام وزارت داخلہ اور ایف آئی اے سے رابطہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سیکریٹری داخلہ نے اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے ہدایات بھی جاری کر دی ہیںاور امکان ہے کہ اسد درانی کا نام کچھ ہی دیر میں ای سی ایل میں ڈال دیا جائے گا۔واضح رہے کہ 25 مئی کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ تمام حاضر اور ریٹائرڈ فوجیوں پر لاگو ہوتا ہے اور کتاب میں اسد درانی سے منسوب خیالات اس کی خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر)اسد درانی اگست 1990 سے مارچ 1992 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے ہیں، جنہوں نے سابق 'را' چیف اے ایس دلت کے ساتھ مل کر ایک کتاب 'دی اسپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس' لکھی ہے۔کتاب میں جن معاملات پر روشنی ڈالی گئی، ان میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔اس کتاب کی رونمائی گزشتہ دنوں بھارت میں کی گئی، تاہم نئی دہلی میں ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے اسد درانی کو بھارت کا ویزہ بھی نہیں ملا تھا۔

Your Thoughts and Comments