حوثی دہشت گردوں نے یمن میں شکست کا اعتراف کر لیا

الحدیدہ کے تین اہم علاقے آزاد، حوثی جنگجوؤں کا غیر معمولی مالی نقصان،26فائٹرزہلاک حوثی ملیشیا کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے یمن کے مغربی ساحلی محاذ پر پے درپے شکست کا اعتراف کرلیا

پیر مئی 12:40

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)یمن کی ساحلی گورنری الحدیدہ میں حکام نے کہاہے کہ عرب اتحادی فوج کی مدد سے سرکاری فوج اور حکومت نواز مزاحمتی فورسز نے الحدیدہ کے تین اہم ڈاریکٹوریٹس کو باغیوں سے آزاد کرالیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق الحدیدہ کیگورنر الحسن طاھر نے ایک بیان میں بتایا کہ سرکاری فوج عرب اتحادی فوج کی مدد سے تیزی کے ساتھ الحدیدہ شہر میں پیش قدمی کررہی ہے۔

گذشتہ دو روز کیدوران تین اہم علاقوں سے باغیوں کو نکال دیا گیا ۔الحسن طاھر نے الحدیدہ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ باغیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور حکومتی فوج کا استقبال کریں اور اس کی بھرپور مدد کریں تاکہ جلد از جلد شہر کو باغیوں سے نجات دلائی جاسکے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب حوثی ملیشیا کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے یمن کے مغربی ساحلی محاذ پر پے درپے شکست کا اعتراف کیا ہے۔

ان کی طرف سے اپنی شکست کے اعتراف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب الحدیدہ گورنری کے کئی اہم علاقوں کو حوثی شدت پسندوں سے چھڑا لیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق تازہ آپریشن میں سرکاری فوج نے الحدیدہ کے التحیتا، بیت الفقیہ، زبید اور الدریھمی ڈاریکٹوریٹس کو باغیوں سے چھڑالیا گیا ہے۔ملک کے مغربی ساحلی محاذ پر باغیوں کو مسلسل شکست دینے کے ساتھ انہیں غیرمعمولی جانی اور مالی نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔اوران کے 26جنگجومارے گئے، باغیوں نے اعتراف کیاکہ الحدیدہ اور دیگر محاذوں پر انہیں حکومتی فوج کیسامنے جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments