نھی بچی کا بوسہ لینے کے جُرم میں بھارتی خاکروب کو قید کی سزا

ماں کو اُس وقت شک ہوا جب بچی صفائی والے کو دیکھنے کے بعد خوفزدہ دکھائی دی

پیر مئی 20:12

دُبئی (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)پانچ سال کی ننھی ایرانی بچی کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ کے الزام میں بھارت سے تعلق رکھنے والے خاکروب کو دُبئی کی عدالت کی جانب سے چھے ماہ کی قید سُنائی گئی ہے۔ صفائی والے نے بچی کو اُس وقت چُوما جب وہ اپنے ہمسایوں کے گھر میں موجود جھُولے میں اُچھل کُود کر رہی تھی۔

بچی کے عجیب و غریب ردِ عمل پر ماں کو احساس ہوا کہ یقینا چھیالس سالہ بھارتی خاکروب نے اُس کی بیٹی کے ساتھ نازیبا حرکات کر کے اُس کے معصوم ذہن کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ یہ خاکروب علاقے میں صفائی سُتھرائی کا کام کرتا تھا۔ بچی کی ماں نے بتایا کہ ایک دِن اُس کی بچی گھر والوں کے ساتھ پارک میں کھیل رہی تھی۔ اس دوران یہ خاکروب وہاں آیا تو بچی کی ماں نے اُسے کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ دِیں۔

(جاری ہے)

مگر بچی بہت خوفزدہ اور پریشان دکھائی دینے لگی۔ جب اُس سے وجہ پُوچھی گئی تو اُس نے ماں کو بتایا کہ کچھ دِن پہلے خاکروب نے اُس کا مُنہ چُوما تھا اور اُس کے منہ سے بہت زیادہ بدبو آ رہی تھی۔ یہ بات جاننے کے بعد بچی کے والدین نے پولیس کو طلب کر لیا جنہوں نے صفائی والے کو بُلا کر اس سے پُوچھ گچھ کی تو اُس نے بیان دِیا کہ اُس نے پدرانہ شفقت کے جذبے کے تحت چُوما تھا۔

اتوار کے روز مقامی عدالت میں جرح کے دوران ملزم نے اعتراف کر لیا کہ اُس نے معصوم بچی کو اُس کی مرضی کے بغیر گلے لگایا اور چُوما تھا۔ پریزائڈنگ جج فہد ال شمسی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مجرم کو سُنائی گئی چھے ماہ قید کی سزا پُوری کرنے کے بعد وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔ جبکہ مُلزم نے عدالت میں اپنے دفاع میں بچی کو جنسی چھیڑ چھاڑ کا نشانہ بنانے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے بچی کو ایک باپ کی طرح چُوما تھا۔

”میں نے اُس کا مُنہ نہیں چُومابلکہاُس کے گالوں کو پیار سے چُوما تھا کیونکہ اُسے دیکھ کر مجھے اپنی بیٹی یاد آ گئی تھی۔ “ اُس نے عدالت میں بیان دیا۔ بچی کی ماں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اُسے صفائی والے کی جانب سے بیٹی کو چُومنے چاٹنے کے واقعے کا کافی دِن بعد پتا چلا تھا۔ ”میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ ملزم کے منہ سے بہت زیادہ بدبُو آتی ہے جب میں نے اُسے پُوچھا تھا کہ وہ کیوں خوفزدہ ہوئی تھی۔

تو اُس نے بتایا کہ جب وہ ہمسایوں کے گھر جھُولے میں اُچھل کُود کر رہی تھی تو صفائی والے نے اُسے دو بار چُوما تھا۔ بیٹی نے کہا کہ وہ ہمیں بتانے سے بہت زیادہ خوفزدہ تھی کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ یہ جاننے کے بعد ہم نے پولیس سے رابطہ کیا۔“ ماں نے تفصیل بتائی۔ایرانی بچی نے استغاثہ کو بتایا کہ صفائی والے نے اُس کے چہرے کو چاٹا اور چُوما جب وہ گھر سے باہر کھیل رہی تھی۔ ملزم کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے۔

Your Thoughts and Comments