ائیروائس مارشل محمد اطہر شمس کے صاحبزادے کو گولی مار دی گئی

ائیر وائس مارشل کے 14 سالہ صاحبزادے محمد ابراھیم اسلام آباد کے سیکٹر ای 8 میں نیول کمپلیکس کے علاقے میں داخل ہوتے وقت ڈیوٹی پر معمور گارڈ کی گولی کا نشانہ بنے

بدھ مئی 00:46

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل مئی ء) ائیروائس مارشل محمد اطہر شمس کے صاحبزادے کو گولی مار دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ای 8 میں واقع نیول کمپلیکس میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ پاک فضائیہ کے ائیروائس مارشل محمد اطہر شمس کے صاحبزادے کمر میں لگنے والی گولی کے باعث معذور ہوگئے ہیں۔

قومی روزنامہ سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق ائیروائس مارشل محمد اطہر شمس کے صاحبزادے محمد ابراھیم جو کہ بحریہ کالج میں آٹھویں جماعت کے طالب علم ہیں، انہیں اور ان کے چھوٹے بھائی کو ان کے ڈرائیور کی جانب سے نیول کمپلیکس کے بحریہ گیٹ سے داخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس موقع پر جب ڈیوٹی پر معمور سیکورٹی گارڈ نے گاڑی کو روکنے کی کوشش تو ڈرائیور گاڑی روکنے کی بجائے فوری علاقے میں داخل ہوگیا اور گاڑی بھگا لے جانے کی کوشش کی۔

(جاری ہے)

اس دوران سیکورٹی گارڈز نے فوری حرکت میں آتے ہوئے گاڑی پر گولی چلا دی جو گاڑی میں سوار ائیروائس مارشل محمد اطہر شمس کے صاحبزادے محمد ابراھیم کی کمر میں جا لگی۔ بعد ازاں ڈرائیور ائیروائس مارشل کے دونوں صاحبزادوں کو سیکٹر ای 9 میں واقع پاک فضائیہ کے ہسپتال کے باہر گاڑی میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ ڈاکٹرز نے بروقت آپریشن کرتے ہوئے محمد ابراھیم کی کمر سے گولی نکال کر اس کی جان بچا لی۔

تاہم گولی لگنے کے باعث محمد ابراھیم چلنے پھرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگیا ہے۔ اس واقعے کے بعد پاک فضائیہ کے حکام نے جائے وقوعہ پر جا کر تمام معاملے کی چھان بین کی ہے۔ تمام واقعے کی چھان بین کرنے کے بعد حکام نے تمام افراد کو مطلع کیا ہے کہ آئندہ جب کبھی کسی بھی چیک پوسٹ یا گیٹ پر انہیں روکا جائے تو وہ ہر صورت ہدایات پر عمل کریں۔

Your Thoughts and Comments