بحیرہ احمر پراجیکٹ کے تحت سیاحوں کو موقع پر ہی ویزہ جاری کیا جائے گا

سعودی مملکت کے زیر انتظام پچاس جزیروں کوپُرکشش سیاحتی مقام بنانے کی تیاریاں شروع

منگل مئی 19:38

لندن (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل مئی ء)سعودی حکومت بحیرہ احمر منصوبے کے تحت سیاحت و تفریح کی غرض سے آنے والے غیر ملکیوں کو موقع پر ہی سیاحتی ویزے کا اجراء کرے گی۔ اس عظیم الشان سیاحتی منصوبے کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ایک کمپنی تشکیل دی گئی ہے جو اس منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے گی۔

یہ منصوبہ سعودی عرب میں سیاحتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے حوالے سے انقلابی نوعیت کا حامل ہے جسے سعودی زرِ مبادلہ میں اضافے کے لیے بھی ایک سنگِ میل قرار دیا گیا ہے۔ یہ کمپنی سعودی عرب کے پبلک انویسمنٹ فنڈ کی ملکیت ہے جسے فعال طریقے سے کام کرنے کے لیے بااختیار بنایا گیا ہے۔ کمپنی نے برطانیہ کے ورجن گروپ کے بانی رچرڈ برینسن کو اپنے بورڈ ممبران میں شامل کیا ہے جبکہ برطانیہ کے ہی کینری وہارف گروپ کے سابقہ مینجنگ ڈائریکٹر آف ڈویلپمنٹ جان پگانو کی اس پراجیکٹ کے لیے بطور چیف ایگزیکٹو خدمات حاصل کی ہیں۔

(جاری ہے)

اس پراجیکٹ کے تحت سیاحوں کو موقع پر ویزہ جاری ہو گا‘ ان پر سعودی عرب کے سماج کی کڑی پابندیاں اور ضابطے لاگو نہیں ہوں گے۔ جان پگانو نے اس سیاحتی پراجیکٹ کے حوالے سے کہا ”ہماری منزل سیاحوں کے لیے ایک منفرد نوعیت کا تفریحی مقام ہے جو حُسنِ فطرت کے دلدادہ لوگوں‘ مہم جوؤں‘ ثقافتی رنگا رنگی کا مشاہدہ کرنے والوں اور مہمانوں کے لیے مسائل دُنیا سے بے فکری اور جوانی جیسے جوش و جذبے کو اُبھارے گی‘ اس پراجیکٹ میں ہر نوعیت کے فرد کے لیے احساسات و تجربات کا تنوع ہے جس میں آسائش‘ سکون‘ مہم جوئی اور دلفریب مناظرِ فطرت شامل ہیں۔

“ کمپنی کے ترجمان کے مطابق بحیرہ احمر منصوبے کا پہلا مرحلہ الوجہہ اور املج نامی شہروں کے درمیانی علاقوں کی سیاحتی ترقی پر مشتمل ہو گا۔ اس کا کُل رقبہ بیلجیم جیسے یورپی مُلک کے رقبے سے کہیں زیادہ بنتا ہے۔ اس مرحلے میں رہائش گاہیں اور ہوٹل شامل ہیں‘ اس کے علاوہ ایک نئے ساحلی قصبے‘ ایئرپورٹ اور بندرگاہ کی تعمیر بھی شامل ہے۔ یہ مرحلہ 2022کے اواخر میں اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

اُمید کی جا رہی ہے کہ یہ پراجیکٹ جس کا اعلان گزشتہ برس جولائی میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کیا تھا۔ سعودی عرب کے سیاحتی سیکٹر کو ترقی دینے کے سلسلے میں ایک اہم ترقیاتی منصوبہ ثابت ہو گا۔ اس پراجیکٹ کے باعث فوری طور پر 35 ہزار نئی ملازمتیں جنم لیں گی اور 15 بلین سعودی ریال کی آمدنی ہو گی۔ اس پراجیکٹ کے تحت قِدیہ نامی تفریحی مقام کی توسیع و ترقی بھی کی جا رہی ہے۔ یہ تفریحی مقام رقبے میں ڈزنی ورلڈ سے اڑھائی گُنا بڑا ہو گا۔ واضح رہے کہ موجودہ سعودی فرماں روا کی جانب سے وضع کیے گئے معاشی ترقی کے وِژن 2030 کے تحت سعودی سیاحتی شعبے میں 12 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

Your Thoughts and Comments