سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کوفراہم کی جانے والی سکیورٹی کی تفصیلات طلب کر لیں

استحقاق رکھنے والی شخصیات اور افسران کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی کی مصدقہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم

جمعرات مئی 21:39

لاہور۔31 مئی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات مئی ء) سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کوفراہم کی جانے والی سکیورٹی کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے استحقاق رکھنے والی شخصیات اور افسران کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی کی مصدقہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

عدالتی حکم پر ڈی آئی جی عبدالرب نے رپورٹ جمع کراتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد 246 اعلیٰ شخصیات سے سکیورٹی واپس لی گئی تاہم عدالتی حکم پر قائم کمیٹی کی سفارش پر 114 شخصیات کو سکیورٹی واپس کر دی گئی۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو حقائق کے مطابق مصدقہ رپورٹ کی فراہمی کا موقع دیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں دوبارہ رپورٹ طلب کر لی۔

(جاری ہے)

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر رپورٹ میں حقائق چھپانا ظاہر ہو گیا تو آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی عبدالرب ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کوکتنی سکیورٹی دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ 90 کانسٹیبل حمزہ شہباز کی سکیورٹی پر مامور تھے جنہیں واپس بلالیا گیا ہی. چیف جسٹس نے کہاکہ میڈیا عدالت کو حقائق سے آگاہ کرے، عدالت خود بھی پتہ کرائے گی۔ عدالت نے مزید سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی۔

Your Thoughts and Comments