شاہد خاقان عباسی کاقومی مسائل کے حل کیلئے نیشنل ڈائیلاگ کا مطالبہ

پاکستان کے مسائل کے حل کیلئے نیشنل ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے،قومی مکالمے میں سول فوجی تعلقات، پارلیمنٹ و عدلیہ اور پارلیمنٹ و حکومت کے باہمی تعلقات اور حدود کی وضاحت کی جائے،ٹروتھ کمیشن بنایا جائے جو کسی کو سزا نہ دے مگر ماضی میں جو کچھ ہوا اسکی حقیقت عوام کوبتائے،5 سال میں جمہوری عمل میں بہت سے کامے اور فل سٹاپ لگانے کی کوشش کی گئی، صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے،انتخابات میں ایک د ن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کریں گے،5سال میںسول ملٹری اتفاق رائے سے ہی سکیورٹی معاملات بہتر ہوئے،2013کے پاکستان اور2018کے پاکستان میں بہت فرق ہے،5سالوں میںملک میں اندرونی اور بیرونی مواصلاتی رابطے کا انقلاب لایا گیا،خارجہ پالیسی میں پاکستان کی خود مختاری پر کوئی حرف نہیں آنے دیا،کشمیر کا مسئلہ ہم نے ہر فورم پر اٹھایا، افغانستان کے مسئلے پر دنیا ہمارے موقف کی تائید کرتی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کاقومی اسمبلی میں الوداعی خطاب

جمعرات مئی 22:49

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات مئی ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی مسائل کے حل کیلئے نیشنل ڈائیلاگ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائل کے حل کیلئے نیشنل ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے،قومی مکالمے میں سول فوجی تعلقات، پارلیمنٹ و عدلیہ اور پارلیمنٹ و حکومت کے باہمی تعلقات اور حدود کی وضاحت کی جائے۔

ٹروتھ کمیشن بنایا جائے جو کسی کو سزا نہ دے مگر ماضی میں جو کچھ ہوا اسکی حقیقت عوام کوبتائے۔پانچ سال میں جمہوری عمل میں بہت سے کامے اور فل سٹاپ لگانے کی کوشش کی گئی، صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے،انتخابات میں ایک د ن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کریں گے،5سال میںسول ملٹری اتفاق رائے سے ہی سکیورٹی معاملات بہتر ہوئے،2013کے پاکستان اور2018کے پاکستان میں بہت فرق ہے،5سالوں میںملک میں اندرونی اور بیرونی مواصلاتی رابطے کا انقلاب لایا گیا،خارجہ پالیسی میں پاکستان کی خود مختاری پر کوئی حرف نہیں آنے دیا،کشمیر کا مسئلہ ہم نے ہر فورم پر اٹھایا، افغانستان کے مسئلے پر دنیا ہمارے موقف کی تائید کرتی ۔

(جاری ہے)

وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں الوداعی خطاب کر رہے تھے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج اسمبلی مدت پوری کر رہی ہے،10ماہ قبل پارٹی نے مجھے ذمہ داری دی تھی، سپیکرنے اپوزیشن کو بھرپور انداز میں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا،سپیکر کے عمل نے جمہوریت کو تقویت دی، اپوزیشن لیڈر نے مثالی لیڈر شپ اپوزیشن کو دی اور پانچ سالہ دور میں جمہوریت پر بہت سارے حملے ہوئے، بہت سے لوگوں نے کہا کہ حکومت جانے والی ہے اور دھمکیاں دیں، مگرخورشید شاہ نے ہمیشہ جمہوریت اورپارلیمنٹ کی بات کی، اگر حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے تو اس میں اپوزیشن لیڈر کا مثالی کردار ہے، اپوزیشن لیڈر نے جمہوری انداز برقرار رکھا، سیاسی اختلافات کے باوجود ملک میں قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہوا،اتفاق رائے کی وجہ سے جمہوریت اورپارلیمنٹ مضبوط ہے۔

فاٹاانضمام کے معاملے پر اتفاق رائے قائم ہوا۔ جوحکومت مدت پوری کرتی ہے اس کی کارکردگی عوام کیسامنے ہوتی ہے۔اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ترقی کا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ 2013میں ملک میں امن و امان کی صورتحال سب جانتے ہیں، سول ملٹری اتفاق رائے سے فیصلے ہوئے اور 2018میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی، ہماری افواج کا میاب ہوئیں اور پاکستان کو امن دیا، سول و عسکری قیادت نے مل کر ملک میں امن قائم کیا، ہماری افواج نے ایسی جگہ پر دشمن کو ہرایا جہاں تمام دنیا کی افواج نہیں کرسکیں۔

کراچی میں امن قائم کیا گیا، کراچی بھی صرف سٹریٹ کرائم باقی ہے، کراچی دنیا کے پہلے خطرناک5 شہروں میں شامل تھا آج کراچی کا نام پہلے 50شہروں میں بھی نہیں، یہ بھی جمہوریت کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013کی نسبت ملکی معیشت بہت بہتر ہے،2017میں ترقی کی شرح 3فیصد تھی اب 6فیصد ترقی کی شرح ہے، 2013میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر تھی، آج پاکستان بیرونی سرمایہ کاری کیلئے پسندیدہ ملک ہے، پانچ سالہ دور حکومت میں بہت سے فل سٹاپ اور کامے لگانے کی کوشش کی گئی، آج پاکستان سرمایہ کاری کا مرکز بنا ہوا ہے، ہم نے پاکستان میں ٹیکس ریفارمز کیں جن کو مستقبل میں جاری رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں توانائی بحران پر قابو پالیا گیا ہے، آئندہ 15سال تک ملک میں توانائی کا بحران نہیں ہو گا، ہم نے کول کے منصوبے لگائے۔برآمدی گیسز پہلی مرتبہ پاکستان میں آئی ہے، تاپی گیس پائپ لائن 22 التواء کا شکار تھی آج مکمل ہو رہی ہے، ملک میں اندرونی اور بیرونی مواصلاتی رابطے کا انقلاب لایا گیا،1500کلو میٹر موٹرویز اور 2000کلو میٹر کے ہائی ویز منصوبے مکمل کئے گئے ہیں، موٹروے کانیٹ ورک ملک کیلئے انقلاب کا باعث بنے گا،پانی اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ہے، اتفاق رائے سے نیشنل واٹر پالیسی بنائی،سی پیک منصوبہ آج ایک حقیقت ہے، اس کے منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں، یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کی ترقی کی شرح بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا، تھرکول ہم سنتے آئے مگر ڈویلپمنٹ نہ ہوئی، آج وہاں منصوبے لگ رہے ہیں، سستی ترین بجلی پیدا ہو گی، فاٹا میں اتفاق رائے سے ریفارمز مکمل کی گئیں، جبکہ جی بی اور کشمیر میں ریفارمز کا کام جاری ہے، خارجہ پالیسی میں پاکستان کی خود مختاری پر کوئی حرف نہیں آنے دیا،کشمیر کا مسئلہ ہم نے ہر فورم پر اٹھایا، افغانستان کے مسئلے پر دنیا ہمارے موقف کی تائید کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مرحلہ الیکشن کا ہے، الیکشن میں ڈیلے کی کوشش کی حمایت نہ حکومت کرتی ہے نہ اپوزیشن، جمہوریت کیلئے سب سے ضروری ہے کہ صاف، شفاف الیکشن ہوں، پاکستان کے مسائل صرف عوام کی منتخب حکومت ہی حل کر سکتی ہے،عام انتخابات میں سب سے بڑی ضرورت آزاد میڈیا کی ہے، جو حقیقی تصویر عوام کو دکھائے، انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں ہوگی، صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتیں شرکت کریں۔ اس مکالمے میں سول فوجی تعلقات، پارلیمنٹ و عدلیہ اور پارلیمنٹ و حکومت کے باہمی تعلقات اور حدود کی وضاحت کی جائے۔نیب اور عدلیہ جو کچھ کررہی ہے اس پر سرکاری افسر کے لیے بہتر آپشن یہی ہے کہ وہ کوئی فیصلہ نہ کرے، وقت اور حالات کے مطابق مشکل فیصلے کرناپڑتے ہیں۔

پانچ سال میں جمہوریت پر بہت سے حملے ہوئے، اخبار خبروں سے بھرے رہے کہ اسمبلی جارہی ہے، جمہوری عمل میں بہت سے کامے اور فل سٹاپ لگانے کی کوشش کی گئی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایک ٹروتھ کمیشن بنایا جائے ، وہ کمیشن کسی کو سزا نہ دے مگر ماضی میں جو کچھ ہوا اسکی حقیقت عوام کو پتہ چلنی چاہیے اور وہ کمشین صرف حقیقت عوام کو بتائے، اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کا مشکور ہوں، تمام ممبران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں وزرا اور حکومتی ارکان سمیت اپوزیشن اراکین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی کی جانب سے پارلیمانی رہنماں کو شیلڈ پیش کی گئی۔

Your Thoughts and Comments