جسٹس (ر) ناصر الملک نے نگران وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اُٹھا لیا

ایوان صدر میں نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے حلف برداری کی تقریب منعقد کی گئی

جمعہ جون 11:53

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ جون ء): جسٹس (ر) ناصر الملک نے نگران وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اُٹھا لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایوان صدر میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں صدر مملکت ممنون حسین نے جسٹس (ر) ناصر الملک سے نگران وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ ایوان صدر میں منعقد کی گئی اس تقریب میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت سول اور عسکری قیادت شریک تھی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے حکومت اور اپوزیشن کے مابین نگران وزیر اعظم کے عہدے کے لیے جسٹس (ر) ناصر الملک کے نام پر اتفاق ہوا تھا جس کا اعلان اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا۔

(جاری ہے)

ناصر الملک پاکستان کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔وہ پاکستان کے 22 ویں چیف جسٹس تھے۔

ناصر المک 17اگست 1950کو پیدا ہوائے۔ان کا تعلق سوات کے سیاسی گھرانے سے ہے پرائمری اور مڈل کی تعلیم آبائی علاقے میں حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی سے ایل ایل بی کرنے کے بعد اعلٰی تعلیم کے لیے لندن چلے گئے۔ جہاں جسٹس ناصرالملک نے بیرسٹر ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپس آکر پشاور میں وکالت کا باقاعدہ آغاز 1977 میں کیا اور سترہ سال تک بطور وکیل عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔

1993 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ایڈوکیٹ جنرل بنے۔ 1994 میں پشاور ہائی کورٹ کے جج کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ دس سال بعد 31 جولائی 2004 میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ ایک سال چیف جسٹس ہائی کورٹ رہنے کے بعد 2005 میں سپریم کورٹ کے جج بنے اور دس سال تک عدالت عظمی کے جج رہنے کے بعد جولائی 2014 میں چیف جسٹس پاکستان بنے۔چیف جسٹس ناصرالملک نے اپنے کیرئیر میں کئی اھم فیصلے کئے۔

عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات سے متعلق انکوائری کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے رپورٹ مرتب کی۔اپنی ریٹائر منٹ سے چند روز قبل انہوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں فیصلہ سنایا۔ آپ تین نومبر کی ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دینے والے سپریم کورٹ بنچ کا حصہ تھے۔ این آر او ، سوئس حکام کو خط لکھنے کا معاملہ ، لاپتہ افراد کیس ، بلوچستان و کراچی بد امنی کیس سمیت متعدد اہم نوعیت کے کیسز کی سماعت بھی کی۔

Your Thoughts and Comments