تحریک انصاف الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں

شرط لگا سکتاہوں عمران خان کےپاس امیدوارچننے کابھی وقت نہیں،پی ٹی آئی سینٹ الیکشن کی طرح آج پیپلزپارٹی سےملکربھی الیکشن جیتنےکی پوزیشن میں نہیں،الیکشن میں تاخیربھی اسی لیے چاہتے ہیں۔سینئر تجزیہ کار محمود صادق کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

اتوار جون 20:55

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار جون ء): سینئر تجزیہ کار محمود صادق نے کہا ہے کہ تحریک انصاف الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے،سینیٹ الیکشن کیلئے بلوچستان میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے جوائنٹ آپریشن کیا تھا،لیکن آج کی تاریخ میں دونوں ملکربھی الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ،اسی لیے الیکشن میں تاخیرچاہتے ہیں۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چیف جسٹس الیکشن ملتوی کروانے کے خلاف واضح اعلان کرچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ الیکشن 25جولائی کو ہی ہوں گے۔لیکن دوسری جانب حالات یہ ہیں کہ تحریک انصاف الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا جوائنٹ آپریشن جودونوں نے سینیٹ الیکشن کیلئے بلوچستان میں کیا تھا۔

(جاری ہے)

توتحریک انصاف اتحاد کرکے بھی آج کی تاریخ میں الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دونوں اس وقت مخمصے کا شکار ہیں۔پیپلزپارٹی بڑی جماعت ہے وہ فیصلے کرنا جانتی ہے لیکن ان کوعوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔کیونکہ پیپلزپارٹی نے عوام کیلئے کام نہیں کیے۔ دوسری جانب تحریک انصاف ہے جس کو عوامی حمایت حاصل ہے لیکن وہ اپنے فیصلے ہی نہیں کرپارہی ہے۔

تحریک انصاف میں ایک شخص عمران خان ہے ،یہ ان کی مقبولیت کی عمدہ مثال ہیں کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔لیکن ان کوکچھ نہیں آتا۔یہ فیصلے کرتے ہیں کہ جب ان کوجہانگیرترین کچھ بولتے ہیں تویہ وہ بات کردیتے ہیں جب شاہ محمود قریشی کچھ کہتے ہیں تووہ بول دیتے ہیں۔چنانچہ فیصلے کرنا ان کی قوت سے باہر ہے۔یعنی ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے جس میں ایک لیڈر ہوتا ہے۔

وہ فیصلے کرتا ہے۔لہذا تحریک انصاف 2مہینوں میں الیکشن نہیں لڑسکتی۔ یہ پانچ سال سے الیکشن الیکشن کررہے ہیں اور ہم یہی کہتے تھے کہ تحریک انصاف الیکشن کی تیاری کرلے۔انہوں نے کہا کہ ایک سسٹم چاہتا ہے کہ نوازشریف کسی صورت واپس نہ آئے۔اس کیلئے انہوں نے پیپلزپارٹی کو قبول کرلیا۔ لیکن پیپلزپارٹی ووٹ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔جوڑتوڑ یا فیصلے کرسکتی ہے۔

جوجماعت ووٹ لے سکتی ہے ان کے پاس فیصلے کرنے کی قوت ہی نہیں ہے۔انہوں نے ادھرادھر سے لوگ پکڑ کرجماعت بنالی ہے اور پی ٹی آئی کارکن پارٹی قیادت سے ناراض ہیں۔محمود صادق نے کہا کہ میں شرط لگا سکتاہوں کہ عمران خان کے پاس امیدوار چننے کا بھی وقت نہیں ہے۔کیونکہ ان کی کچھ ایسی مصروفیت ہے جس کے باعث وہ پچھلا الیکشن بھی ہار گئے تھے۔آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ وہ خیبرپختونخواہ اور پنجاب کیلئے نگراں وزیراعلیٰ کے نام کا فیصلہ نہیں کرپارہے۔کئی لوگوں کے نام لیے اور ان کوگندا اور شرمندہ کردیا ہے۔

Your Thoughts and Comments