نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں چلا گیا

شہبازشریف اورمیاں محمودالرشید میں ملاقات نہ ہوسکی،حکومت اوراپوزیشن کا معاملہ متفقہ پارلیمانی کمیٹی کوبھجوانے پراتفاق،پی ٹی آئی نے3رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کردی۔میڈیا رپورٹس

اتوار جون 21:49

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار جون ء): پنجاب میں بھی نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے نہ ہو سکا، معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید اور سابق وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں متفقہ طور پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کرنے پر اتفاق ہوا۔

بعد ازاں میاں محمودالرشید نے بنی گالہ میں سربراہ تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی۔ ترجمان سابق اپوزیشن لیڈر حافظ ذیشان رشید کے مطابق ملاقات میں نگران وزیراعلیٰ کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے نام فائنل کئے گئے۔

(جاری ہے)

ترجمان کے مطابق میاں محمودالرشید کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس میں سبطین خان اور شعیب صدیقی ممبر ز ہونگے جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال خان کو تحریک انصاف نے پارلیمانی کمیٹی سے متعلق آگاہ کر دیا ہے جس کا نوٹیفیکیشن آج( پیر) جاری ہونے کا امکان ہے۔

جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی میں پہلا اجلاس ہوگا۔ دریں اثنا ء میاں محمودالرشید نے اسلام آباد میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نگران وزیراعلیٰ کے معاملے پر پہلے دن سے ہی سنجیدہ نہیں تھی، ناصر کھوسہ کانام واپس لینے کے بعد بھی بہت وقت تھا حکومت چاہتی تھی اس معاملے کو احسن طریقے سے سرانجام دے سکتی تھی۔

واضح رہیتحریک انصاف نے اپنے ہی نامزد کردہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب ناصر کھوسہ کا نام واپس لے لیا ہے۔ پی ٹی آئی نے ناصر محمود کھوسہ کے نام کو متنازع گردانتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا نام نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈرمیاں محمود الرشید نے کہاکہ نامزد نام پر پارٹی اور باہر سے مخالفت کی آوازیں آرہی تھیں۔نئے نام پارٹی مشاورت کے بعد آج ہی سامنے آجائیں گے۔

تحریک انصاف نے کامران رسول اور طارق کھوسہ کے ناموں پر مشاورت شروع کردی ہے۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی جانب سے سابق چیف سیکرٹری ناصرمحمود کھوسہ کانام دیا گیا تھا،جلد بازی میں غلطی ہوگئی۔ اب ہم نام واپس لے رہے ہیں۔دوسری جانب وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے تحریک انصاف کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب ناصرمحمود کھوسہ کا نام واپس لینے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ تحریک انصاف نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب ناصر محمود کھوسہ کی نامزدگی پر مذاق کیا ہے۔

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی نامزدگی ایک آئینی و قانونی طریقہ کے تحت کی گئی ہے۔ جس کے باعث نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کا نام واپس لینے کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اب جو مرضی کہتی رہے کہ ہم نے جلد بازی میں نامزدگی کردی یا جو کچھ مرضی کہے۔ اب نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی جس پرآئین کے تحت نامزدگی ہوئی ہے اسی طرح ان کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اب نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے نام پر کوئی مشاورت یا نظر ثانی نہیں کی جائے گی۔وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اب نگراں وزیراعلیٰ کے نام پردوبارہ مشاورت کی جائے، یانام واپس لے لیا جائے۔

Your Thoughts and Comments