ہم اپنے کیے کے ذمہ دارہیں،جب تک ہماری حکومت تھی توسب ٹھیک تھا، نوازشریف

کون تھا جوملک کواندھیروں میں ڈبوگیا ، آخری دنوں میں شہبازشریف اورشاہد خاقان عباسی نے بہت منصوبوں کا افتتاح کیا، کیا یہ کام کسی ماضی کی حکومت نے کئے، کیا موٹروے پرکسی اورحکومت کا نام لکھا ہے، وفاق اورپنجاب میں 39 میگا منصوبے شروع کئے گئے، گوادرکوئٹہ سڑک بنائی اورنیلم جہلم اورتربیلا 4 کومکمل کیا،چترال میں بجلی بھی آگئی ہے، پاورپلانٹ لگ گیا ہے، چترال والے پہلے آہی نہیں سکتے تھے، اب سرنگ سارا سال کھلی رہتی ہے، ہم تو نیب کورٹ میں پھنسے ہیں ورنہ آپ کولواری ٹنل کی سیرکراتے، لواری ٹنل سے چارگھنٹے سفرکم ہوا ہے سابق وزیراعظم کی احتساب عدالت پیشی پر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو

پیر جون 19:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ کون تھا جوملک کواندھیروں میں ڈبوگیا ، ہم اپنے کیے کے ذمہ دارہیں،جب تک ہماری حکومت تھی توسب ٹھیک تھا، آخری دنوں میں شہبازشریف اورشاہد خاقان عباسی نے بہت منصوبوں کا افتتاح کیا، کیا یہ کام کسی ماضی کی حکومت نے کئے، کیا موٹروے پرکسی اورحکومت کا نام لکھا ہے، وفاق اورپنجاب میں 39 میگا منصوبے شروع کئے گئے، گوادرکوئٹہ سڑک بنائی اورنیلم جہلم اورتربیلا 4 کومکمل کیا،چترال میں بجلی بھی آگئی ہے، پاورپلانٹ لگ گیا ہے، چترال والے پہلے آہی نہیں سکتے تھے، اب سرنگ سارا سال کھلی رہتی ہے، ہم تو نیب کورٹ میں پھنسے ہیں ورنہ آپ کولواری ٹنل کی سیرکراتے، لواری ٹنل سے چارگھنٹے سفرکم ہوا ہے۔

(جاری ہے)

پیر کو احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ میں صرف یہ کہتا ہوں جب تک ہماری حکومت تھی تو سب ٹھیک تھا، آخری دنوں میں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے بہت سے منصوبوں کے افتتاح کیے۔نواز شریف نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں 39 میگا واٹ کے منصوبے شروع کئے، نیلم، جہلم اور تربیلا 4 کو مکمل کیا، گوادر کوئٹہ سڑک بنائی، برہان سے ڈی آئی خان تک سڑک زیر تعمیر ہے، یونیورسٹیاں اور اسپتال الگ ہیں، کیا یہ کام کسی ماضی کی حکومت نے کیے اور کیا کسی نے موٹر ویز بنائی، کون تھا جو ملک کو اندھیروں میں ڈبو گیا اور کون تھا جو روشنیاں واپس لایا۔

انہوں نے کہا کہ خواہش تھی کہ وزیراعظم لاہور، ملتان اور سکھر موٹر وے کا افتتاح کرتے مگر بنانے والوں نے تاخیر کردی، یہ منصوبے مئی 2018 میں مکمل ہونا تھے، میں ہوتا تو شاید تاخیر نہ ہوتی۔نواز شریف نے کہا کہ حیدرآباد کراچی موٹروے بن چکی ہے، کچھی کینال کا تاریخی منصوبہ مکمل کیا، لواری ٹنل دیکھ لیں جس کی وجہ سے چار گھنٹے سفر کم ہوا ہے، لواری ٹنل پہلے سال میں 6 ماہ بند رہتی تھی اور اب سارا سال کھلی رہتی ہے۔سابق وزیراعظم نے صحافیوں سے کہا کہ ہم تو نیب کورٹ میں پھنسے ہیں ورنہ آپ کو لے کر جاتا لواری ٹنل کی سیر کراتا۔نواز شریف نے کہا کہ چترال والے پہلے آہی نہیں سکتے تھے لیکن اب وہاں بجلی بھی آگئی اور پاور پلانٹ بھی لگ گیا۔

Your Thoughts and Comments