خدیجہ صدیقی کیس؛لاہور ہائیکورٹ نے اپنی ہم جماعت طالبہ پر خنجر کے 23 وار کرنے والے کو بری کر دیا

شاہ حسین نے اپنی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی

پیر جون 19:37

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء):خدیجہ صدیقی کیس؛لاہور ہائیکورٹ نے اپنی ہم جماعت طالبہ پر خنجر کے 32 وار کرنے والے کو بری کر دیا۔ شاہ حسین نے اپنی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔تفصیلات کے مطابق 2 سال پہلے لاہور میں قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر اس کے ہم جماعت شاہ حسین نے حملہ کیا تھا۔

ملزم نے خدیجہ کی چھوٹی بہن کے سامنے خنجروں سے حملہ کردیا تھا۔ مجرم نے خدیجہ پر خنجر کے 23 وار کیے جس سے خدیجہ شدید زخمی ہوئی تھی تا ہم اس حملے میں اس کی جان بچ گئی ۔جس کے بعد اس نے بڑے باپ کے بگڑے ہوئے بیٹے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے خلاف کیس کر دیا جس کی سماعت لاہور کی مقامی عدالت میں ہوئی ۔

(جاری ہے)

اس سارے عرصے میں خدیجہ صیقی کو کافی مشکلات ،دباو اور ملزمان کی جانب سے دھمکیوں کا بھئ سامنا کرنا پڑا لیکن خدیجہ ڈٹی رہی اور آخر کار 29 جولائی 2017 کو خدیجہ صدیقی کو کامیابی ملی اور سوا سال بعد ملزم شاہ حسین اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

مقامی عدالت نے خدیجہ صدیقی کیس میں مجرم شاہ حسین کو سات سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے شاہ حسین کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خدیجہ نے میڈیا اور وکلا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، 23 خنجروں کا حساب لینا تھا جو مل گیا۔تاہم اس کے بعد ملزم نے اپنی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی جس پر فیصلہ سناتئ ہوئے آج لاہور ہائیکورٹ نے مقامی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل کا موقف کا تھا کہ واقعے کی گواہیاں قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتیں۔یاد رہے کہ مجرم شاہ حسین ایڈوکیٹ تنویر ہاشمی کا بیٹا ہے اور دونوں باپ بیٹا اسی پیشے سے تعلق رکھتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments