پاکستان میں انتخابات پر چھائے غیر یقینی کے بادل، چین بھی ردعمل دینے پر مجبور ہوگیا

امید ہے پاکستان میں انتخابی عمل ہموار طریقے سے سرانجام پائے گا ،پاکستان اس بڑے سیاسی عمل بآسانی مکمل کر لے گا انتخابی عمل اور نتائج سے سدا بہار پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کی ترقی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ایرانی ایٹمی مسئلے پر چین اور یورپی یونین جامع اور سنجیدہ پالیسی وضع کریں گے، چین اور ایران مابین ہمیشہ سے اقتصادی و تجارتی تعلقات رہے ہیں، چین کو بھارت کے مثبت رویہ پر خوشی ہے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھن اینگ کی معمول کی پریس بریفنگ

پیر جون 22:51

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء)چین نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں انتخابی عمل ہموار طریقے سے سرانجام پائے گا اور پاکستان اس بڑے سیاسی عمل بآسانی مکمل کر لے گا، انتخابی عمل اور نتائج سے سدا بہار پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کی ترقی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ایرانی ایٹمی مسئلے پر چین اور یورپی یونین جامع اور سنجیدہ پالیسی وضع کریں گے، چین اور ایران مابین ہمیشہ سے اقتصادی و تجارتی تعلقات رہے ہیں، چین کو بھارت کے مثبت رویہ پر خوشی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھن اینگ نے معمول کی پریس بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ چین کو امید ہے کہ پاکستان کا انتخابی عمل پر امن اور ہموار طریقے سے سر انجام پائے۔

(جاری ہے)

پاکستان سلجھا ہوا ملک ہے اور یہ اپنے سیاسی و انتخابی عمل کو بہتر طریقے اور آسانی سے پورا کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتخابی عمل کے نتیجے میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت قائم ہو پاک چین تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ پاک چین تعلقات ان چیزوں سے بہت بلند اور گہرے ہیں۔

ہووا نے ایران بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین اور ایران مابین ہمیشہ سے اقتصادی و تجارتی تعلقات رہے ہیں اور رہیں گے۔ ایرانی ایٹمی مسئلے پر چین اور یورپی یونین جامع اور سنجیدہ پالیسی وضع کریں گے۔ ایرانی جوہری ڈیل پر تمام بڑی قوتوں کو ایک لائھہ عمل ط۷ے کرنا ہو گا۔ چین اس سلسلے میں اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔

ترجمان نے چین اور بھارت تعلقات بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین کو بھارت کے رویے میں مثبت تبدیلی پر خوشی ہے۔ اس سال اپریل میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اورت چینی صدر شی جن پھنگ مابین ملاقات میں بہت سے معاملاتر کو طے کرنے اور بہتری کی طرف جانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے بعد دونوں ممالک مابین تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔چین اور بھارت مابین اعتماد سازی میں مدد ملی ہے۔اعتماد سازی کا مطلب یہ ہے کہ چین اور بھارت مابین مسلسل باہمی سیاسی اعتماد میں اضافہ اور سرحد میں امن اور امن قائم رکھنا ہے۔

Your Thoughts and Comments