پاک فوج پر بہت سے الزام لگے، وقت کے ساتھ ساتھ تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے،

سپر پاور سمیت کسی بھی ملک نےدہشتگردی کے خلاف وہ کامیابیاں حاصل نہیں کیں جو پاک فوج نے حاصل کی ہیں، پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت کسی بھی منظم دہشت گرد گروپ کا اسٹرکچر موجود نہیں، کوئی بھی ملک پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے،انتخابات 2018کی تاریخ اور انعقاد کا طریقہ کار طے کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، فوج کو آئینی حدود میں جو کردار سونپا گیا وہ اسے ادا کرے گی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے کتاب میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کے واقعات رپورٹ کیے ہیں ،کتاب لکھنے کے لئے جی ایچ کیو سے این او سی بھی نہیں لیا ،پاک فوج نے خلاف ورزی یا غلطی پر سپاہی سے لیکر جنرل تک کے آفیسر کو معاف نہیں کیا، پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو، پاکستان کی عوام اپنی فوج سے محبت کرتی ہے،سوشل میڈیا پر جھوٹے نعروں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہر چیز کا جواب نہیں دے سکتے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی میڈیا کو ملک کی داخلی سکیورٹی صورتحال اور سرحدی انتظام سے متعلق بریفنگ

پیر جون 23:14

راولپنڈی۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاک فوج پر بہت سے الزام لگے، سب گواہ ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے، صفائی دینے کی ضرورت نہیں، اپنی کارکردگی دنیا میں دکھائی، سپر پاور سمیت دنیا کے کسی بھی ملک نے دہشتگردی کے خلاف وہ کامیابیاں حاصل نہیں کیں جو پاک فوج نے حاصل کی ہیں، مسلح افواج نے آپریشن ضرب عضب میں تمام دہشت گرد گروپوں کا صفایا کیا، اس وقت پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت کسی بھی منظم دہشت گرد گروپ کا اسٹرکچر موجود نہیں ہے، کوئی بھی ملک پاکستان کی امن کی خواہش کو ریاست، حکومت اور فوج کی سطح پر کمزوری نہ سمجھے ، آئندہ انتخابات 2018کی تاریخ اور انعقاد کا طریقہ کار طے کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، اگر آئندہ الیکشن میں سکیورٹی یاکسی اور کام کے لئے ریکوزیشن بھجوائی گئی تو اسکا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا ،فوج کو آئینی حدود میں جو کردار سونپا گیا وہ اسے ادا کرے گی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے کتاب میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کے واقعات رپورٹ کیے ہیں ،کتاب لکھنے کے لئے جی ایچ کیو سے این او سی بھی نہیں لیا ،ان کے خلاف انکوائری کا جلد نتیجہ نکلے گا، پاک فوج نے خلاف ورزی یا غلطی پر فوج کے سپاہی سے لیکر جنرل تک کے آفیسر کو معاف نہیں کیا، ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو، پاکستان کی عوام اپنی فوج سے محبت کرتی ہے،سوشل میڈیا پر جھوٹے نعروں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہر چیز کا جواب نہیں دے سکتے، منظور محسود سے منظور پشتین کیسے ہوا، سوشل میڈیا پر مہم چل گئی، کس طریقے سے ایک ٹوپی ملک کے باہر سے تیار ہو کر پاکستان آنا شروع ہوگئی، کس طریقے سے اخباروں میں آرٹیکل آنا شروع ہوئے ان سب چیزوں کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

وہ پیر کو آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں میڈیا کو ملک کی داخلی سکیورٹی صورتحال اور سرحدی انتظام سے متعلق بریفنگ دے رہے تھے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے 13 برس میں جنگ بندی معاہدے کی 2 ہزار سے زائد بار خلاف ورزی کی اور صرف 2018 میں 1 ہزار 77 بار سیز فائر خلاف ورزیاں کی ہیں ، 2013ء سے رواں سال تک 48 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، بھارت کی جانب سے پہلی گولی آنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا تو جواب نہیں دیں گے لیکن دوسری گولی آتی ہے تو بھرپور جواب دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ڈی جی ایم او کے مابین ہاٹ لائن رابطے میں طے ہوا کہ سیز فائر معاہدے پر عمل کیا جائے گا، ہم سمجھتے ہیں کہ ڈی جی ایم اوز نے جن باتوں پر اتفاق کیا ہے اس پر عمل کیا جائے، پاکستانی عوام، سکیورٹی فورسز اور میڈیا نے سیز فائر کے معاملے پر انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جسے بھارتی میڈیا نے پاکستان کی جانب سے خلاف ورزی قرار دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جب سے افغانستان کے ساتھ جیو فینسنگ شروع کی تو سرحد پار فائرنگ کے 71 واقعات ہوئے، سرحد پار فائرنگ سے 7 سپاہی شہید اور 39 زخمی ہو چکے ہیں، پچھلی دو دہائیوں میں وہ کام کیا جو کسی اور ملک نے اس طرح کے چیلنجز ہوتے ہوئے نہیں کیا، ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہے اور پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی بیرونی خطرے پر بات کی تو پوری لیڈرشپ نے فیصلہ کیا اور آگے چلے، ہم سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ امریکا کامیاب ہوکر افغانستان سے نکلے اور ایک مستحکم افغانستان چھوڑ کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت کوئی منظم دہشت گرد گروپ موجود نہیں ہے،آپریشن ضرب عضب میں تمام دہشت گرد گروپوں کا صفایا کیا۔

انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی ضروری ہے کیونکہ ان کے جانے کے بعد جو بھی دہشت گرد ہیں، ان کے خاتمے میں آسانی ہو گی۔انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ سرحد پر حالات بہتر ہوئے ہیں اور محفوظ سرحد دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان بادینی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں امن کی صورتحال بہتر ہورہی ہے ، جب ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی تو آرمی چیف بھی کوئٹہ گئے اور متاثرین سے ملے، ہزارہ کمیونٹی کے 100 سے زائد افراد کے قتل میں ملوث سلمان بادینی کو ہلاک کیا گیا، سلمان بادینی کی ہلاکت پر ہزارہ کمیونٹی کا بہت اچھا رد عمل سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فاٹا کا تاریخی انضمام ہوا جو فاٹا کی ضرورت تھی،قبائلی عمائدین آرمی چیف سے ملے اور قومی قیادت نے مل کر فاٹا کا تاریخی فیصلہ کیا، فاٹا یوتھ جرگے کو آرمی چیف نے کہا کہ جو انضمام کے حق میں نہیں تھے انہیں ساتھ لے کر چلنا ہے، فاٹا کے انضمام کا افغانستان کی سرحد کے ساتھ نہ پہلے کوئی تعلق تھا، نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پچھلے 20 سال میں قربانیاں دے کر امن حاصل کیا اور جو ہم نے حاصل کیا وہ سپر پاور سمیت کسی ملک نے حاصل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب اکٹھا رہنے اور ملک کو آگے لے کر چلنے کا وقت آ گیا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹے نعرے لگانے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، عوام کی فوج کے لیے محبت پچھلے 10 سال میں زیادہ ہوئی ہے کم نہیں ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اور فورسز نے اپنی زندگی ملک کے نام لکھی ہوتی ہے، ہمیں کچھ نہیں چاہیے، صرف چاہتے ہیں کہ اپنے ذاتی مفاد میں ملک کے مفاد کو پیچھے نہ چھوڑیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بہت عرصے سے دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہوا، کراچی کرائم انڈیکس کے حوالے سے چھٹے نمبر پر تھا، رینجرز اور پولیس نے بہت کام کیا اور وہاں امن کو لے کر آئے ہیں،جب کراچی کی عوام خود کھڑی ہو گی تو یہاں کے امن کو کوئی خراب نہیں کر سکتا،کرائم کو کنٹرول کرنا پولیس کا کام ہے ، جب تک پولیس اور سول انتظامیہ ٹھیک نہیں ہو گی تو کرائم پر اس طرح سے قابو نہیں پایا جاسکتا جس کی توقع کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ میڈیا نے اچھا کام کیا لیکن سوشل میڈیا کا استعمال اور اثرات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، ہماری انٹیلی جنس ایجنسی نے ملک دشمن ڈیزائنز کو چیک کیا اور اس کا جواب دیا ہے اور یہی چیز تنگ کرتی ہے، سوشل میڈیا پر کیا ہو رہا ہے اس حوالے سے ہمارے پاس اہلیت ہے ۔میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ امریکا کیساتھ تعلقات تھوڑے سے دباؤ کا شکار ہیں۔

ہماری خواہش ہے کہ امریکا افغانستان سے کامیاب ہو کر واپس جائے۔ پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو تاہم افغانستان کی فورسز کی کیپسٹی کا ایشو ہے۔ کچھ علاقے افغانستان کی فورس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ منظور پشتین اور محسن داوڑ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے کچھ باتیں بتائیں تھیں جو نقیب اللہ محسود کے بارے میں تھیں، لاپتہ افراد اور چیک پوسٹ کے معاملات تھے، منظور اور محسن داوڑ کو باقی لوگوں سے الگ کیا اور انہیں مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، محسن داوڑ نے تو یقین دہانی پر شکریہ بھی ادا کیا جو ریکارڈ پر بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ منظور محسود سے منظور پشتین کیسے ہوا، سوشل میڈیا پر مہم چل گئی، کس طریقے سے ایک ٹوپی ملک کے باہر سے تیار ہو کر پاکستان آنا شروع ہوگئی، کس طریقے سے اخباروں میں آرٹیکل آنا شروع ہوئے، وہ لوگ جو پاکستان کے استحکام سے خوش نہیں وہ آپ کے ساتھ مل جائیں اورآپ کی تعریف شروع کر دیں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ آرمی چیف کی سخت ہدایات تھیں کہ کسی بھی جگہ پر ان کے اجتماع کو فورس سے ڈیل نہیں کرنا۔

انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ فوج کی فائرنگ سے بچی ماری گئی، غیر ملکی میڈیا پی ٹی ایم کے جلسے کو کیوں براہ راست نشر کررہا ہے، تاحال پی ٹی ایم کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں کیا گیا، لیکن اب ہمارے پاس پی ٹی ایم کے خلاف بہت سارے ثبوت ہیں، یہ لوگ استعمال ہورہے ہیں، وانا میں پی ٹی ایم کارکن فوج مخالف نعرے لگا رہے تھے، امن کمیٹی نے منع کیا تو دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوگیا جس میں ہلاکتیں ہوئیں، لیکن سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف پروپگینڈا کیا جارہا ہے،الزام لگانے اور نعرے لگانے سے فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا، جو بھی پاکستان کی خدمت کرتا ہے یہ وردی اس کی ہے۔

Your Thoughts and Comments