روس کو حق نہیں کہ شام سے ہمارے انخلاء کا مطالبہ کرے ، ایرانی عہدے دار

شام میں اپنے جانی خسارے کو مال بنانے کے لیے نہیں بلکہ ایران کی سکیورٹی کی خاطر برداشت کیا،مشیر خارجہ امور

پیر جون 16:30

تہران(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء)ایرانی وزیر خارجہ کے مشیر حسین شیخ الاسلام نے روس کے اٴْس موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں ایرانی ملیشیاؤں سمیت تمام غیر ملکی فورسز سے شام سے نکل جانے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے ماسکو پر زور دیا کہ وہ شام کی سیادت و خود مختاری کا احترام کرے۔ایرانی ویب سائٹ کے مطابق حسین شیخ نے واضح کیا کہ ایران نے شام میں اپنے جانی خسارے کو مال بنانے کے لیے نہیں بلکہ ایران کی سکیورٹی کی خاطر برداشت کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف شام کو یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ کون اس کی سرزمین پر باقی رہے گا اور کس کو کوچ کرنا ہو گا، روس یہ فیصلہ کرنے والا نہیں ہے۔ روس پر لازم ہے کہ شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔

(جاری ہے)

حسین شیخ نے جوہری معاہدے کو شام میں ایران کی موجودگی سے مربوط کرنے کی امریکی پالیسی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ شام میں ایرانی فورسز شامی حکومت کی درخواست پر آئی ہیں اور اسی حکومت کے مطالبے پر وہاں سے نکلیں گی۔

حسین شیخ کے مطابق ایران نے شام میں حکومت کے حق میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے فیصلہ کن اور مؤثر کردار ادا کیا ہے لہذا متوقع طور پر مستقبل میں شام کے ساتھ تعلقات اور وہاں تعمیرِ نو میں ایران کا دیگر ملکوں کے مقابلے میں زیادہ اہم کردار کوئی حیرت کی بات نہیں۔ایرانی مشیر کا کہنا تھا کہ روس نے شامی حکومت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا تاہم یہ سب کچھ اس نے اپنے مفادات اور اپنے امن کی خاطر کیا۔

اس لیے کہ بہت سے دہشت گرد اس کی جمہوریتوں سے آیا کرتے تھے۔ روس نے شام میں اپنے قومی مفادات کی جنگ لڑی نہ کہ ہمارے مفادات کی۔ لہذا اس کو حق نہیں ہے کہ شام کی سیادت کا احترام نہ کرے۔ایرانی عہدے دار کے مطابق شامی بحران سے قبل شام میں ہمارا ایک بڑا اور شان دار اقتصادی کردار رہا۔ یہ کردار جاری رہے گا۔ سب یہ جان لیں کہ ایرانی کمپنیوں نے شام میں بجلی اور پانی کے شعبے میں 50% سے زیادہ ٹینڈرز حاصل کر لیے ہیں۔

لہذا یہ ایک انوکھی اور متنازع بات ہے کہ روس ہم سے شام سے اپنی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کرے جب کہ ہم نے شام کے بحران کو اختتام تک پہنچایا اور یہ تمام عسکری کامیابیاں حاصل کیں۔حسین شیخ کے مطابق ہم بڑے پیمانے پر شام میں خدمات پیش کر رہے ہیں لہذا یہ کوئی مناسب بات نہیں کہ ہم ان تمام امور کے بعد آسانی سے شام سے نکل جائیں جب کہ شام کے لوگ بھی ہمارا ساتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔

Your Thoughts and Comments