شریف خاندان کی تینوں ریفرنس پر اکٹھے حتمی دلائل دینے کی درخواست مسترد،

لندن فلیٹس ریفرنس میں پراسیکیوٹر نیب کے دلائل شروع مریم نواز لندن فلیٹ کی بینیفشل مالک ہیں، 1993 میں نواز شریف کے بچوں کے ذرائع آمدن نہیں تھے، قطری خط ایک افسانہ تھا، لندن فلیٹس ریفرنس میں 18گواہان کے بیان ریکارڈ کرائے گئے،نیب پراسیکیوٹر

منگل جون 15:11

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء) احتساب عدالت نے شریف خاندان کے وکلا کی جانب سے تینوں ریفرنس پر اکٹھے حتمی دلائل دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے لندن فلیٹس ریفرنس میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر کے دلائل شروع کروا دیے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا مریم نواز لندن فلیٹ کی بینیفشل مالک ہیں، 1993 میں نواز شریف کے بچوں کے ذرائع آمدن نہیں تھے، قطری خط ایک افسانہ تھا، لندن فلیٹس ریفرنس میں 18گواہان کے بیان ریکارڈ کرائے گئے۔

منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش نہ ہوئے۔

(جاری ہے)

شریف خاندان کے وکلا کی جانب سے احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران تینوں ریفرنس پر اکٹھے دلائل دینے کی درخواست دائر کی گئی تھی ۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔عدالت نے ریماکس دیئے کہ اگر اپ چاہیں توچیلنج کر سکتے ہیں،تحریری حکم نامہ جاری کر دیا جایگا۔ نواز شریف کی درخواست مسترد ہونے پر عدالت نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر کو حتمی دلائل دینے کا حکم دیا۔ سردار مظفر نے اپنے حتمی دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے سخت فیصلہ دیا دو معزز ججوں نے نواز شریف کو ذمہ دار ٹھہرایا ، تین ججوں نے جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا ،بیس اپریل کے فیصلے میں جے آئی ٹی سے سوالوں کے جواب طلب کئے گئے ،جے آئی ٹی کو تفتیش کر کے شواہد اکٹھے کر نے کا حکم دیا گیا جس کے بعد ریفرنس دائر کیے۔

انیس اکتوبر 2017کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ لندن فلیٹس ریفرنس میں 18گواہان کے بیان ریکارڈ کرائے گئے۔ آٹھ مئی 2018کو شہادتیں مکمل ہوئیں ،سولہ مئی 2018 کو ملزمان کو سوالنامہ دیا گیا ،نواز شریف نے 21سے 23مئی تک بیان ریکارڈ کرایا۔ چوبیس مئی سے اٹھائیس مئی تک مریم نواز کا بیان ریکارڈ ہوا ، کیپٹن ر صفدر کا بیان 29اور 30 مئی کو ریکارڈ ہوا۔

جے آئی ٹی کو مقامی اور غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا ۔ ملزمان کو نیب نے وضاحت دینے کا موقع فراہم کیا ۔ملزمان نے جواب دیا کہ ہم شامل تفتیش نہیں ہونگے۔اس کورٹ میں بھی ملزمان نے اپنا کوئی دفاع پیش نہیں کیا۔اپنے دفاع میں ملزمان ذرا برابر ثبوت بھی نہیں لائے۔ یہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کو تسلیم کرچکے ہیں کہ یہ انکی ہے ۔

۔لندن فلیٹس کی ملکیت تسلیم شدہ ہے۔ملزمان کے پاس بہت اچھا موقع تھا کہ خود گواہ بن جاتے یہ گواہ اس لئے نہیں بنے کہ انھیں جراہ کا سامنہ کرنا پڑنا تھا۔واجد ضیا کہ بیان اور جراح پر ایک ماہ سات دن لگے ۔1974 سے یہ بے نامی دار چلے آرہے ہیں ۔ آف شور کمپنی کا مطلب یہ تھا کہ مالک کا نام نہیں لکھا ہو گا۔ سپریم کورٹ نے ریفرنس دائر کرنے کا کہا، ملزمان کو نیب نے وضاحت دینے کا موقع فراہم کیا جواب ملا ہم شامل تفتیش نہیں ہوں گے، اس عدالت میں بھی ملزمان نے اپنا کوئی دفاع پیش نہیں کیا ، ،ملزمان ایون فیلڈ پراپرٹیز کو تسلیم کر چکے یہ ان کی ہیں سال 1993 میں لندن فلیٹس بے نامی دار کے ذریعے خریدے گئے۔

مریم نواز بینیفشل مالک ہیں سال 1993 میں ان کے بچوں کے ذرائع آمدن نہیں تھے ، ،قطری خط فسانہ ثابت ہوا، عدالت میں قطری خط پیش کیا تو انہوں نے کہا جے آئی ٹی نے بیان ریکارڈ نہیں کیا جے آئی ٹی کے قطری کا بیان ریکارڈ کرنے کے لئے کوششیں تھیں ۔استغاثہ نے برطانوی گواہ رابرٹ ریڈلے کا بیان ریکارڈ کیا۔ 1994سے اس فیلڈ کا ماہر ہے یہ بھی ویڈیو لنک سے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کر لیتے۔یہ اپنے دفاع کے بغیر ہی انکاری ہیں۔ ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت(آج) بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی۔ بدھ کو بھی نیب پراسیکیوشن کے دلائل جاری رہیں گے۔

Your Thoughts and Comments