ساری ’انجینئرنگ ‘دھری کی دھری رہ گئی

شامی باشندے کو جنسی ہراسگی کے معاملے میں مقدمے کا سامنا

منگل جون 17:49

دوبئی (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء)شام سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ انجینئر کو فلپائنی ملازمہ سے چھیڑ چھاڑ مہنگی پڑ گئی۔ ملزم پر جنسی ہراسگی کے الزام میں دوبئی کی مقامی عدالت میں کیس چلایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اُس نے 27 مارچ 2018ء کو اپنے دفتر میں صفائی کا کام کرنے والی فلپائنی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

ملزم نے عدالت میں اپنے خلاف الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے دانستہ طور پر یہ عمل نہیں کیا ۔ مقدمے کی مُدعیہ‘ 32 سالہ فلپائنی خاتون کے مطابق وہ ایک پرائیویٹ فرم میں صفائی کا کام کرتی ہے جہاں وہ 27 مارچ 2018ء کوسہ پہر تین بجے کے قریب ایک کسٹمر کے لیے کولر سے پانی بھر رہی تھی۔

(جاری ہے)

مُدعیہ کے مطابق ’’میں اس وقت کوریڈور میں تھی جب ملزم میرے پاس سے گزرا اور اس نے میری کمر کے نچلے حصّے پر زور کا تھپڑ جڑ دیا۔

اس عمل پر میں نے اُسے زور سے چِلّا کر کہا کہ اس نامناسب عمل کا کیا مقصد تھا۔ جس پر اُس نے جواب دیا کہ کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ اس کے اس شرمناک طرزِ عمل پر میں کچن میں گئی اور وہاں سے پولیس کو فون کر کے بُلا لیا اور واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مُدعیہ کا کہنا ہے کہ اُس نے شروع میں یہی سوچا کہ ملزم نے اُس کے ساتھ یہ حرکت دفتر کی ایک اور ملازمہ سمجھ کر غلطی سے کی ہے۔

اس واقعے کی گواہ ایک دُوسری 34 سالہ فلپائنی خاتون نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملزم نے واقعے کے بعد اُسے بتایا تھا کہ اُس نے مُدعیہ کو دفتر کی ایک دُوسری خاتون ملازم سمجھ کر اس کے ساتھ یہ حرکت کی تھی۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے ہی اُس نے فوری طور پر ملزمہ سے اس واقعے پر معذرت نہیں کی ۔ عدالت کی جانب سے اس مقدمے کا فیصلہ 28 جُون 2018ء کو سُنایا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments