لاطینی امریکی ملک گوئٹے مالا میں فیوگو نامی آتش فشاں نے تباہی پھیر دی

مرنے والوں کی تعداد 69 تک پہنچ گئی ، مزید ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ،مدادی رضاکار بھاری مشینری اور بیلچوں کی مدد سے متاثرین اور زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش میں مصروف

منگل جون 20:07

ال روڈیو(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء) میکسکو کے جنوب میں واقع لاطینی امریکی ملک گوئٹے مالا میں فیوگو نامی آتش فشاں پھٹنے کے باعث تباہی پھیل گئی، امدادی رضاکار بھاری مشینری اور بیلچوں کی مدد سے متاثرین اور زندہ بچ جانے والے افراد کو تلاش کررہے ہیں۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہیں آتش فشاں پھٹنے کا علم نہیں ہوا، اس وقت زیادہ تر افراد گھروں میں موجود تھے، جس کے باعث تیزی سے بہتے لاوے میں پھنس کر 69 افراد ہلاک ہوگئے، حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ اموات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

مقامی ماہرین کے مطابق گوئٹے مالا میں 1974 کے بعد سے اب تک آتش فشاں پھٹنے کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے، فیوگو نامی یہ آتش فشاں رواں برس دوسری مرتبہ پھٹا، جس کے نتیجے میں آتش فشاں سے پتھریلے لاوے کا اخراج ہوا، اور کثیف دھواں ہر جانب پھیل گیا۔

(جاری ہے)

آتش فشاں کے لاوے نے اِل روڈیو نامی گاں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، اور گھروں میں موجود لوگوں کی ہلاکت کا سبب بن گیا، اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ لاوا تقریبا 12 کلومیٹر دائرے کے علاقے میں پھیل گیا، جبکہ فضا میں 10 کلومیٹر کی بلندی تک راکھ اڑتی ہوئی دیکھی گئی۔

لاوے سے جلی ہوئی زمین ابھی تک اس قدر شدید گرم ہے کہ وہاں جانے والے امدادی کارکنان کے جوتے پگھل گئے جس کے باعث متاثرہ علاقوں سے لاشیں نکالنا فی الحال ناممکن ہے۔اس ضمن میں امدادی رضاکاروں کا کہنا تھا کہ ملنے والی لاشیں مکمل طور پر راکھ اور لاوے کی تہہ سے ڈھکی ہوئی مجسمے کی صورت اختیارکر چکی ہیں، جبکہ آتش فشاں سے نکلنے والی شدید گرم اور زہریلی گیسوں کے باعث دم گھٹنے سے بھی اموات ہوئیں۔

قدرتی آفات کے امدادی ادارے کے ترجمان ڈیوڈ لی لیون کا کہنا تھا کہ صرف سان میگوئیل لاس لاٹیس کے علاقے سے 18 لاشیں ملیں،ایک اندازے کے مطابق اس تباہ کاری سے تقریبا 20 لاکھ لوگ متاثر ہوئے۔اس حوالے سے حکام کی جانب سے لوگوں کو فضا میں پھیلی راکھ سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ماسک پہننے کی ہدایت کی گئی، جبکہ گوئٹے مالا کے صدر جمی مورالیس نے ملک میں اس اندوہناک صورتحال پر 3 دن کے سوگ کا اعلان کردیا۔

گوئٹے مالا کی نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ ایجنسی (کونریڈ) کے سربراہ سرگی کیبناس نے مقامی ریڈیو پر بیان دیتے ہوئے بتایا کہ بد قسمتی سے اِل روڈیو گاں لاوے میں دفن ہوچکا ہے جس کے باعث لا لبرٹڈ نامی گاں تک رسائی بھی مسدود ہوگئی۔اس حوالے سے گوئٹے مالا کینیشنل انسٹیٹیوٹ آف سیسمولوجی کے سربراہ ایڈی سانشیز نے بتایا کہ آتش فشاں سے نکلنے والی تونائی میں کمی واقع ہوچکی ہے اور اس میں بتدریج مزید کمی کا امکان ہے، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں آتش فشاں کے دوبارہ پھٹنے کا خدشہ موجود نہیں۔۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments