سپریم کورٹ میں اصغرخان کیس کی سماعت، مدعا علیہان کو ہفتے کے دن تک جوابات جمع کرانے کی ہدایت، سماعت 12جون تک ملتوی

کیس میں ملوث تمام افراد ایف آئی اے کی تحقیقات کا حصہ بن کر تعاون کریں، ہرایک کوتحقیقات کاسامناکرناہوگا، یہ امر عدالت طے کرے گی کہ کس کا ٹرائل فوج اورکس کا ٹرائل عدالت کرے گی، حکومت نے آرمی افسران کا معاملہ آرمی کو سونپ دیا ہے،آرمی اس معاملے کو متعلقہ قانون کی روشنی میں دیکھے ، تاہم اس کیس میں سویلینز کا معاملہ ایف آئی اے دیکھے گی، اٹارنی جنرل مدعا علیہان کے الگ الگ گروپ بنا کر عدالت کوآگاہ کریں کہ کن کا ٹرائل فوج اورکن کا سول عدالتوں میں ہوگا اورکون کون اس جہان سے گزر چکے ہیں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

بدھ جون 19:02

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ جون ء) سپریم کورٹ نے اصغرخان کیس کے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں مدعا علیہان کو ہفتے کے دن تک جوابات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیس میں ملوث تمام افراد ایف آئی اے کی تحقیقات کا حصہ بن کر تعاون کریں، ہرایک کوتحقیقات کاسامناکرناہوگا، یہ امر عدالت طے کرے گی کہ کس کا ٹرائل فوج اورکس کا ٹرائل عدالت کرے گی، عدالت نے مزید سماعت 12جون تک ملتوی کردی۔

بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ان کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ہاشمی خود پیش ہوئے۔

(جاری ہے)

یادرہے کہ عدالت نے اصغرخان کیس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، جاوید ہاشمی، عابدہ حسین اور دیگر کے علاوہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کئے تھے۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے پیش ہوکرعدالت کو اصغر خان کیس کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا میاں نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے ہیں، وہ کہاں ہیں، عدالت نے انہیں نوٹس بھیجا تھا تو کیوں نہیں آئے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نواز شریف اس وقت احتساب عدالت میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں، اس لئے وہ یہاں نہیں آسکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نواز شریف موجود نہیں توان کے وکیل کو بلایا جائے، یہ عدالتی حکم ہے ہرایک کو تحقیقات کاسامناکرنا پڑے گا۔ عدالت نے جاوید ہاشمی سے استفسارکیا کہ کیا انہوں نے اس وقت پیسے لیے تھے۔ جاوید ہاشمی نے جواب دیا کہ انہوں نے پیسے نہیں لئے بلکہ 5 سال قبل وہ اس معاملے پر نیب کی عدالت میں کیس بھگت چکے ہیں اور اس الزام کو کلیئر کر چکے ہیں تاہم عدالت کے طلب کرنے پر وہ حاضر ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے،کرپشن کے خلاف کیسز میں ان کی طرح سینئر سیاستدانوں کو لیڈر بن کرمثال قائم کرنی چاہیے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت نے آرمی افسران کا معاملہ آرمی کو سونپ دیا ہے،آرمی اس معاملے کو متعلقہ قانون کی روشنی میں دیکھے ، تاہم اس کیس میں سویلینز کا معاملہ ایف آئی اے دیکھے گی۔ سابق اپوزیشن لیڈر خورشید احمد شاہ کی جانب سے اعتزار احسن نے پیش ہوکربتایا کہ اس کیس میں تو پیپلز پارٹی خود ہی متاثرہ جماعت ہے لیکن پی پی پی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کے نام بھی نوٹس جاری ہوا حالانکہ اس کیس میں ان کا نام نہیں ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ نوٹس غلطی سے جاری ہوا، اس لئے عدالت اس کو واپس لیتی ہے۔ عابدہ حسین کی جانب سے وسیم سجاد نے پیش ہوکربتایا کہ انہیں کل ہی نوٹس ملا ہے اس لئے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس کے متعلقہ افراد سمیت سب اس معاملے سے واقف ہیں، جس نے پیسے لئے ہیں وہ عدالت کو بتا دیں اورجس نے نہیں لئے وہ بھی کہہ دیں کہ اس نے پیسے نہیں لئے ہیں۔

جماعت اسلامی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ اس کیس میں پہلے بھی جواب جمع کراچکے ہیں اوردوبارہ بھی جواب جمع کرائیں گے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کیس میں شامل پیر پگارا، مصطفٰی جتوئی، الطاف قریشی، جام یوسف، صلاح الدین اوردیگر کئی افراد وفات پا چکے ہیں۔ عدالت نے ظفراللہ جمالی ، میرحاصل بزنجوکو بھی جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیکرٹری دفاع کی جانب سے جی ایچ کیو کے اکائونٹ سے نکالے گئے چالیس ملین روپے کی وضاحت کی جائے، ایم آئی بھی اپنا جواب داخل کرائے۔

سماعت کے دورا ن سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ نے پیش ہوکرموقف اپنایا کہ اصغرخان کیس کے حوالے سے میرا معاملہ قبل ازیںجی ایچ کیو کوبھیجا گیا تھا لیکن اس پرکارروائی نہیں ہوسکی تھی، اس لئے میری استدعا ہے کہ میرا معاملہ فوج کے پاس بھیجنے کی بجائے ا س عدالت میں میرا ٹرائل کیا جائے۔ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ ہم آپ کا ٹرائل نہیں کرسکتے لیکن آپ ایک درخواست دیں جوآپ کا حق ہے، عدالت جائزہ لے گی کہ آپ کا معاملہ ایف آئی اے دیکھے یا کمیشن کودیکھناچاہیے، ہمارا مقصد کسی کی تذلیل کرنا نہیں بلکہ ہم صرف قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔

بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 جون تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فریقین اگلے تین روز میں اپنے اپنے جوابات جمع کرائیں اور اٹارنی جنرل مدعا علیہان کے الگ الگ گروپ بنا کر عدالت کوآگاہ کریں کہ کن کا ٹرائل فوج اورکن کا سول عدالتوں میں ہوگا اورکون کون اس جہان سے گزر چکے ہیں۔

Your Thoughts and Comments