شیرازی برادران کو ٹکٹ دینے پر پیپلز پارٹی کی لغاری فیملی کی پروین جمال لغاری نے پارٹی کی مخالفت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا

پی ایس 75 سجاول پر سب سے زیادہ ووٹ بینک لغاری، میمن اور ملاح برادری کا جو پیپلز پارٹی سے مکمل ناراض ہیں، پیپلز پارٹی کی مشکلات بڑھ گئیں

جمعرات جون 22:30

سجاول (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات جون ء) شیرازی برادران کو ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں دینے کے پیپلز پارٹی کے اعلان سے سجاول میں سب سے زیادہ ووٹ بینک رکھنے اور پیپلز پارٹی میں معتبر سمجھی جانے والی والی لغاری فیملی کی بااثرخاتون پروین جمال لغاری نے پیپلز پارٹی کی مخالفت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ایس 75 سجاول پر سب سے زیادہ ووٹ بینک لغاری، میمن اور ملاح برادری کا جو پیپلز پارٹی سے مکمل ناراض ہیں، پیپلز پارٹی کی مشکلات بڑھ گئیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی ضلع سجاول کی سینئر خاتون رہنما و گذشتہ عام انتخابات میں ایم پی اے کی امیدوار پروین جمال لغاری نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے جیالوں اور ورکروں کو اعتماد میں لئے بغیر شیرازی برادران کو ایک قومی دو صوبائی نشستوں کی آفر کرکے پیپلز پارٹی میں شامل کرکے برسوں سے پی پی کیلئے قربانیاں دینے والے ورکروں جیالوں کو ناراض کر دیا ہے جو بے حد ناانصافی ہے۔

(جاری ہے)

قیادت کے ایسے عمل کہ بعد عوامی رائے سے سجاول کے صوبائی حلقہ پی ایس 75 پر آزاد حیثیت سے یا پھر جی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے سجاول میں پی پی کی مخالفت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنی رہائشگاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ میرے والد محترم نے پوری زندگی غریب عوام کی خدمت کی تھی جس کو کوئی بھول نہیں سکتا۔

میرے خاندان نے عوام کی بے لوث خدمت کی ہے اور مجھے امید ہے کہ عوام کی حمایت سے انشاللہ کامیاب ہو کر عوام کے ہر مسائل کو ترجیح دوں گی۔ واضح رہے کہ پی پی کی مرکزی قیادت کی جانب سے عوام دشمن فیصلے کے بعد مختلف برادریوں کے معززین نے پروین لغاری کی رہائش گاہ پر پہنچ کر انہیں ووٹ دلوانے سمیت ہر قسم کی ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس کے علاوہ شیرازیوں کو پیپلز پارٹی میں شامل کرنے کے بعد سجاول میں پی پی کارکن، جیالوں و ہمدردوں نے بھی پروین جمال خان کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ سجاول میں پی پی کے معتبر اور سب سے زیادہ ووٹ بینک رکھنے والی لغاری فیملی کی اس بہادر خاتون نے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کیلئے پریشانیاں پیدا کر دی ہیں جبکہ سجاول کے پی ایس 75 پر سب سے زیادہ ووٹ بینک لغاری، میمن اور ملاح برادری کا ہے جو پیپلز پارٹی سے مکمل ناراض ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ اس حلقہ میں سابقہ رکن سندھ اسمبلی رئیس مظفر خان لغاری کا بڑا اثر رسوخ ہے۔اور مرحوم نواب جمال خان لغاری یہاں کے مشہور اور بزرگ سیاستدان تھے ان کا بھی بڑا اثر ہے۔ سجاول ضلع کے عوام کی بھی یہ رائے ہے کہ پروین جمال خان لغاری آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں۔

Your Thoughts and Comments