داعش کا شامی علاقے پر 10 خود کش بمباروں کے ذریعے حملہ

بطن میں اہم علاقے پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب

ہفتہ جون 15:21

بیروت (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ جون ء) داعش کے دہشتگردوں نے شام اور عراقی بارڈ کے بطن میں واقع اہم علاقے پر بڑا حملہ کرکے دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا،جس کے بعد واضح ہو گیا کہ داعش تاحال امریکی حمایتی فورسز کے مقابلے میں زیادہ طاقت رکھتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے کے مطابق اسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ کا کہنا ہے کہ داعش نے البو کمال نامی علاقے میں 10 خود کش بمباروں کے ذریعے حملہ کیا اور اطراف کے علاقوں پر بھی اپنا تسلط قائم کرلیا۔

گزشتہ سال داعش کی نام نہاد ‘خلافت’ ختم کیے جانے کی قیاس آرائیاں عروج پر تھیں،تاہم دہشتگردوں کی جانب سے حالیہ حملوں سے تمام افوائیں دم توڑ گئی ہیں۔اس حوالے سے شامی مبصر گروپ کا کہنا تھا کہ داعش کے حملوں میں حکومت اور اتحادی فوجیوں سمیت 25 اہلکار جاں بحق ہوئے۔

(جاری ہے)

مبصر گروپ کے سربراہ رمی عبد الرحمٰن نے دہشتگرد تنظیم داعش کے حالیہ حملے کو سال کا پہلا بڑا حملہ قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ‘داعش نے نومبر 2017 میں مذکورہ علاقے کو گنوادیا تھا تاہم اس کے بعد سے مذکورہ حملہ البوکمال پر سب سے بڑا حملہ ہے’۔ان کا کہنا ہے کہ ‘داعش شہر کے متعدد حصوں کا انتطام سنبھال چکی ہے جبکہ وسط میں لڑائی جاری ہے اور خود کش حملہ آواروں سمیت 18 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔شامی مبصرگروپ کے مطابق دہشتگرد داعش نے برطانوی ریاست جتنی بڑی جگہ سے خود ساختہ اسلامی ریاست کا اعلان کیا اور اب شامی ریاستوں کے بڑے حصے پر اپنا تسلط قائم کر چکی ہے۔

دوسری جانب شامی مبصر گروپ کے مطابق شام کے شمال مغرب میں باغیوں کے زیر قبضہ رہائشی علاقے میں اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 44 شہری ہلاک ہوگئے۔گروپ کا کہنا ہے کہ صوبہ حلب کے علاقے زًردانا میں کیے جانے والے فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments