چینی صدرنے اپنے روسی ہم منصب ولادی چین کا پہلا دوستی کا تمغہ پہنا دیا

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات دوستانہ ،ہمسائے کے ساتھ ترقی میں اسٹریجک شراکت داری پر کوشاں ہیں،پیوٹن

ہفتہ جون 17:19

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ جون ء)چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کو چین کا پہلا دوستی کا تمغہ پہنا دیا جسے امریکا سے سفارتی اور معاشی چیلنجز کے باوجود دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کا اظہار سمجھا جارہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گرینڈیوس گریٹ ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں چینی صدر نے دونوں ممالک کی اعلیٰ شخصیات کے سامنے روسی صدر کو بڑا سنہری تمغہ پہنایا۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا چین کا اعلیٰ ترین اعزاز ان غیر ملکیوں کو دیا جاتا ہے جنہں نے ملک کو جدیدیت کی طرف لے جانے میں شاندار شراکت‘ قائم کی اور عالمی امن کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔انہوں نے کہا کہ یہ دوستی کا تمغہ صدر ولادی میر پیوٹن کے لیے چینی عوام کی عزت کا اظہار کرتا ہے اور یہ چین اور روس کے درمیان گہری دوستی کی نشانی ہے۔

(جاری ہے)

چینی صدر کا کہنا تھا کہ ہم دونوں سمجھتے ہیں کہ موجودہ تجارت کا تحفظ بڑھا ہے لیکن عالمی معیشت کی بحالی میں بہت سی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ اقتصادی عالمگیریت اور علاقائی اقتصادی انضمام وقتی رجحان ہے۔علاوہ ازیں تقریب سے قبل روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات دوستانہ ہیں اور ہمسائے کے ساتھ ترقی میں اسٹریجک شراکت داری پر کوشاں ہیں۔

ولادی میر پیوٹن کا کہنا تھا روس اور چین کے درمیان گزشتہ برس دوطرفہ تجارت 87 ارب ڈالر تک رہی جو رواں برس کی پہلی سہہ ماہی میں 31 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔انہوں نے کہا اگر ہم ترقی کی یہ شرح برقرار رکھتے ہیں تو ہم کچھ برسوں میں اپنے مقرر کیے گئے ہدف 100 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے سربراہان نے ٹیانجن شہر میں نوجوانوں کی آئس ہاکی کے مقابلے میں بھی شرکت کی۔

اس حوالے سے کارنیگی ماسکو سینٹر کے سینئر فیلو الیکس زینڈر گابیو کا کہنا تھا کہ شی جن پنگ اور ولادی میر پیوٹن ایک جیسے ہیں جو اپنے ممالک کو دوبارہ سے بہترین بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں رہنما خودمختار حکمران ہیں اور ملاقات کے دوران دونوں نے امریکی ہم آہنگی اور بے اعتمادی کے امریکی ارادوں پر شک و شبہات کا اظہار بھی کیا ہے۔

Your Thoughts and Comments