فاٹا کا فوری انضمام اورقبائلی علاقوں کی عوام کو مکمل تحفظ کا احساس ہونا چاہیے،نگران وزیر اعظم

فاٹا کا خیبرپختونخوا کیساتھ انضمام ایک تاریخی پیشرفت ہے جس قبائلی علاقوں کے عوام کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب اور یہ علاقے ترقی کی دوڑ میں شامل ہوں گے،ناصرالملک نگران وزیراعظم نے فاٹا انضمام کے حوالہ سے رکاوٹوں و مشکلات کے خاتمہ کی حکمت عملی وضع کرنے کیلئے وفاقی وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی

پیر جون 21:27

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء)نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ (فاٹا)کو فوری قومی دھارے میں لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے سابق قبائلی علاقوں کی عوام کو مکمل تحفظ کا احساس ہونا چاہیے۔نگراں وزیراعظم کی زیر صدارت فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے حوالہ سے جائزہ اجلاس وزیر اعظم ہائوس میں ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر سید علی ظفر، وزیراعظم کے سیکرٹری، سیکرٹری سیفران، خزانہ اور منصوبہ بندی ڈویژن کے سیکرٹریز، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، اے سی ایس فاٹا اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ ناصر الملک نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالہ سے رکاوٹوں و مشکلات کے خاتمہ کی حکمت عملی وضع کرنے اور اس عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کیلئے وفاقی وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی۔

(جاری ہے)

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا محمد اعظم خان نے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی اور فاٹا انضمام کے حوالہ سے پارلیمان سے حال ہی میں منظور ہونے والی آئینی ترمیم کے عملی اطلاق کے حوالہ سے مختلف انتظامی، قانونی اور مالیاتی امور کی نشاندہی کی جو فاٹا کے انضمام کے عمل کو بہتر انداز میں عملی بنانے کیلئے فوری توجہ کے لیے ضروری ہے۔

اب تک کئے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ ایجنسیوں اور فرنٹیئر رینجز کو اب خیبرپختونخوا کے اضلاع اور سب ڈویژنز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیٹیکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پولیٹیکل کے عہدے تبدیل کرکے اب ڈپٹی کشمنر اور اسسٹنٹ کمشنر بنا دیئے گئے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایجنسی ڈویلپمنٹ فنڈ کے خاتمہ کے بعد تمام ٹیکسوں، لیوی اور راہداری کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں عدلیہ، پولیس، استغاثہ اور جیل سروس شروع کرنے کیلئے منصوبوں کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔بورڈ آف ریونیو کے ممبر نے اجلاس کے شرکا کو آئندہ پانچ سالوں کیلئے سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کو ٹیکس استثنی اور دیگر مالیاتی ترغیبات کے بارے میں بریفنگ دی۔سیکرٹری خزانہ نے اجلاس کے شرکا کو انضمام کے عمل کو احسن طریقہ سے انجام دینے اور علاقہ کی ترقی کیلئے مالی وسائل مختص کرنے کے ضمن میں بریفنگ دی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم ناصر الملک کا کہنا تھا کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام ایک تاریخی پیشرفت ہے جس قبائلی علاقوں کے عوام کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور یہ علاقے ترقی کی دوڑ میں شامل ہوں گے۔نگراں وزیراعظم نے اس سلسلہ میں تمام ضروری انتظامی، قانونی اور مالیاتی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی چیئرمین شپ میں ایک کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

یہ کمیٹی فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے ضمن میں رکاوٹوں اور مشکلات کے خاتمہ کیلئے حکمت عملی وضع کرنے اور اس عمل کو احسن انداز میں مکمل کرنے کیلئے کام کرے گی۔کمیٹی میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا محمد اعظم خان، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا، سیکرٹری داخلہ خیبرپختونخوا، اے سی ایس فاٹا اور خزانہ، ریونیو و منصوبہ ڈویژن کے نمائندے شامل ہوں گے۔اجلاس میں کمیٹی کو اپنا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔نگراں وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا عمل جلد مکمل کیا جائے تاکہ سابق فاٹا کے عوام کو تحفظ کا احساس ہو سکے۔

Your Thoughts and Comments