پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں شہبا زشر یف نے ایک دوسرے کے خلاف شکایات لگانے پر امیدواروں کو سختی سے ڈانٹ پلا دی

مختلف قائدین کے چٹکلوں کی وجہ سے اجلاس میں قہقے گونجتے رہے ‘ محمد شہبازشریف نے پیپلزپارٹی کے جیالے کودیکھ کربے سا ختہ ہنس پڑے موصوف پیپلزپارٹی کے نو جوان جیالوں میں شمار کیے جاتے تھے،ہم انتخابی مہم کے سلسلے میں گھر گھر جارہے تھے جب ان کے گھر کے پاس سے گزرے تو موصوف نے اپنے گھر کے اوپر سے ہم پرپانی کی بالٹی پھینک دی‘شہبا زشر یف کی پیپلزپارٹی کے جیالے بارے گفتگو

پیر جون 00:00

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء) مسلم لیگ (ن) کے پار لیمانی بورڈ میں صدر شہبا زشر یف نے ایک دوسرے کے خلاف شکایات لگانے پر امیدواروں کو سختی سے ڈانٹ پلا دی جبکہ مختلف قائدین کے چٹکلوں کی وجہ سے اجلاس میں قہقے گونجتے رہے ‘مسلم لیگ ن کے صدر محمد شہبازشریف نے پیپلزپارٹی کے جیالے کودیکھ کربے ساختہ ہنس پڑے،شہبازشریف نے کہا کہ موصوف پیپلزپارٹی کے نوجوان جیالوں میں شمار کیے جاتے تھے،ہم انتخابی مہم کے سلسلے میں گھر گھر جارہے تھے جب ان کے گھر کے پاس سے گزرے تو موصوف نے اپنے گھر کے اوپر سے ہم پرپانی کی بالٹی پھینک دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس اتوار کے روز منعقد ہوا جس میں لیگی امیدواروں کی جانب سے ٹکٹ کے حصول کیلئے ایک دوسرے کی مخالفت بھی کی گئی۔

(جاری ہے)

شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں پارٹی کے دیرینہ رہنمائوں اور سابق اراکین اسمبلی نے کھل کر ایک دوسرے کی مخالفت کی ۔اس موقع پر ٹکٹ کیلئے آنے والے امیدواراپنے ساتھ بلدیاتی نمائندوں سمیت متحرک رہنمائوں کو بھی ساتھ لائے تھے جو باہر بیٹھے رہے ۔

اجلاس کے دوران ایک موقع پر پارٹی رہنما چوہدری باقر علی نے کہا کہ پی پی 152سے ارائیں برادی کے امیدوار کو ٹکٹ دیا جائے جس پر بجاش خان نیازی نے کہا کہ میرا نام بجاش خان نیازی ارائیں رکھ لیں اور ٹکٹ مجھے دیدیں جس پر تمام شرکاء نے قہقہ لگایا ۔ انہوںنے کہا کہ پارٹی قیادت جسے ٹکٹ دے گی اس کے ساتھ ہوں لیکن اگر مجھے دیدے تو بہتر ہے جس پر دوبارہ قہقے بلند ہوئے۔

سابق اراکین ملک ریاض اور غزالی سلیم بٹ آمنے سامنے آ گئے اور الزامات لگائے ۔ غزالی سلیم بٹ نے کہا کہ پارٹی قیادت حلقے میں ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں کی تحقیقات کرا لے سب ناقص ہیں ۔ملک ریاض نے کہا کہ پارٹی کے ساتھ مخلص رہا ہوں ،حلقوں کے بلدیاتی نمائندے بھی ساتھ ہیں ،حلقہ میں خدمت کی اورعوام اس بات کے گواہ ہیں ۔پی پی 166کے چیئرمینوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) ٹکٹ صرف حلقہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو دے اور باہر سے وارد ہونے والے کو ٹکٹ دیا گیا تو سپورٹ نہیں کریں گے ۔

راشد کرامت بٹ نے کہا کہ میاں صاحب ورکرز کو ٹکٹ دیں پراپرٹی ٹائکون امیدوار نہ ہو ،ہم نے سیاسی پرچوں میں جیلیں کاٹیں ہیں، ہمارا خیال رکھا جائے ۔ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ آپ سب کا خیال رکھا جائے گا۔شہبازشریف نے پی پی 156کے 11امیدواروں کے انٹر یو کئے ۔اجلاس کے دوران شہبازشریف نے لیگی رہنما چودھری واحد کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ چودھری واحد آپ نے پارٹی تبدیل کردی تھی ۔

حلقہ 144اور 145کے امیدوار بھی شہبازشریف کے سامنے پھٹ پڑے اور شکایت کی کہ سابقہ ایم این اے اور ایم پی اے نے کچھ نہیں کروایا۔ شہباز شریف نے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ آپ ٹکٹ لینے آئے ہیں یا شکایتیں لگانے کیلئے آئے ہیں ۔تمام پرانے کارکنوںکو جانتا ہوں کچھ اب بزرگ ہوگئے ہیں ۔اجلاس کے دوران بزرگ امیدوار نے مغل بادشاہ کا خواب سنایا تو اجلاس کشت زعفران بن گیا۔

اجلاس میں شہباز شریف نے عمر سہیل ضیا بٹ کو ہلکے پھلکے انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آ پ تو اپنے والد کی پارٹی سے ٹکٹ لیں جبکہ مسلم لیگ ن کے صدر محمد شہبازشریف نے پیپلزپارٹی کے جیالے کودیکھ کربے ساختہ ہنس پڑے،شہبازشریف نے کہا کہ موصوف پیپلزپارٹی کے نوجوان جیالوں میں شمار کیے جاتے تھے،ہم انتخابی مہم کے سلسلے میں گھر گھر جارہے تھے جب ان کے گھر کے پاس سے گزرے تو موصوف نے اپنے گھر کے اوپر سے ہم پرپانی کی بالٹی پھینک دی۔

Your Thoughts and Comments