عالم انسانیت کو درپیش کثیر الجہتی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے اقوام عالم ایک دوسرے کی مدد کریں،

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے ،بھارت مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازع مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پر آمادہ ہو جائے، سفارت کاروں کے ساتھ یہ سالانہ ملاقات خوشگوار روایت کا روپ دھار چکی ،رمضان المبارک کا عالمگیرپیغام آج کی دنیا سے بہت مطابقت رکھتا ہے ،پاکستان نے دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح ان مسائل سے نمٹنے کیلئے جراتمندانہ فیصلے کئے، ہماری کامیابیوں کا راز قوم کا سیاسی عزم، بھر پور اتحاد اور فوجی کارروائی کا دلیرانہ فیصلہ ہے ،صدر مملکت کا سفیروں کے اعزاز میں افطار عشائیہ کے موقع پر خطاب

منگل جون 22:46

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ سفارت کاروں کے ساتھ یہ سالانہ ملاقات اب ایک خوشگوار روایت کا روپ دھار چکی ہے جو میرے لیے باعث اطمینان ہے،رمضان المبارک کا عالمگیرپیغام آج کی دنیا سے بہت مطابقت رکھتا ہے جہاں لمحہ بہ لمحہ تبدیلیاں ظہور پذیر ہو رہی ہیں، یہ عالمی سطح پر غیر معمولی تبدیلیوں کا عہد ہے،پاکستان نے دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح ان مسائل سے نمٹنے کیلئے جراتمندانہ فیصلے کئے،گزشتہ تین برس سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں تسلسل کے ساتھ کمی آئی، ہماری اس کامیابی کا راز قوم کا سیاسی عزم، بھر پور اتحاد اورفوجی کارروائی کا دلیرانہ فیصلہ ہے جو اقوام عالم کیلئے ایک مثال ہے،عالم انسانیت کو درپیش کثیر الجہتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقوام عالم ایک دوسرے کی مدد کریں،عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے ،بھارت مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازع مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہو جائے۔

(جاری ہے)

منگل کو سفیروں کے اعزاز میں افطار عشائیہ کے موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں آپ سے ملاقات باعث مسرّت ہے، افطار عشائیہ میں شرکت پر میں دل کی گہرائی سے آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں، اسلام آباد میں مقیم سفارت کاروں کے ساتھ یہ سالانہ ملاقات اب ایک خوشگوار روایت کا روپ دھار چکی ہے جو میرے لیے باعث اطمینان ہے۔

انہوں نے کہا کہ روزہ ایک آفاقی تصوّر اور ایسی عبادت ہے جو عالم انسانیت اور مختلف مذاہب میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے ۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے انسان میں نظم وضبط، مسائل کا سامنا کرنے کی ہمت ، ایثار کا جذبہ، صبرو استقامت اور عاجزی کی کیفیات پیدا ہو تی ہیں۔ رمضان المبارک رب کریم کی بے پایاں رحمتوں کا مہینہ ہے اور یہ معاشرے میں طبقاتی استحکام کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

بھوک اور پیاس کی کیفیات سب پر یکساں اثر انداز ہوتی ہیں لہٰذا خالق کائنات کے احکامات پر پابندی سے تمام افراد برابری کی سطح پر ایک ہو جاتے ہیں،رمضان المبارک کا عالمگیرپیغام آج کی دنیا سے بہت مطابقت رکھتا ہے جہاں لمحہ بہ لمحہ تبدیلیاں ظہور پذیر ہو رہی ہیں، یہ عالمی سطح پر غیر معمولی تبدیلیوں کا عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں، مذہبی، نسلی و لسانی تعصبات اور برتری کے گھمنڈ کی وجہ سے دنیا غیر معمولی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔

ان پیچیدہ مسائل نے مختلف معاشروں ا ور اقوام کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے، اسی طرح دنیا کے مختلف خطے دہشت گردی کی لعنت سے نبردآزما ہیں، اس خوفناک تصادم میں بعض اوقات یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ اعتدال پسند قوتیں کہیں ناکام نہ ہو جائیں ۔متشدد اور تعصبانہ قوتیں مذہبی،نسلی، اقتصادی برتری اور استبدادی خواہشات انسانیت کی بقا کے لیے بڑا خطرہ ہیں،تاریخ کے یہ نازک لمحات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم دینی تعلیمات کی طرف رجوع کریں جو امن کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں اور مذہب جدید ترمعاشرے میں اجتماعی اور انفرادی سطح پر ایک متحدہ قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرے،آج دہشت گردی ایک خطر ناک عفریت کا روپ دھار کر چکی ہے جس کا دنیا کو سامنا ہے۔

بلا شبہ وطنِ عزیز دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتے ہوئے سب سے زیادہ متاثر ہوا ۔ ہماری معیشت کو ۷۲۱ بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ اس جنگ کے دوران ہمارے ہزاروں شہریوں اور سپاہیوں نے جان کی قربانی دی ۔پاکستان نے دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جراتمندانہ فیصلے کیے،گزشتہ تین برس سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں تسلسل کے ساتھ کمی آئی ہے۔

ہماری اس کامیابی کا راز قوم کا سیاسی عزم، بھر پور اتحاد اورفوجی کارروائی کا دلیرانہ فیصلہ ہے جو اقوام عالم کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک تکثیری معاشرہ (Pluraistic Society)ہے جس میں مختلف رنگ ونسل اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں جنھیں آئین اور قانوں کے تحت یکساں حقوق حاصل ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان معاملات کی بنیاد پر دنیا کے دیگر معاشروں کی طرح پاکستان کو بھی بہت سے مسائل کا سامنا رہا ہے لیکن ان آزمائشوں میں پاکستانی عوام نے جمہوریت ، صبرو برداشت اوراعتدال پسندی کو اپنی قوت بنا لیا۔

بانی ٴ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح ؒ نے تمام شہریوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادیوں کی ضمانت دی تھی ۔ انھوں نے پاکستان کے مختلف عقائد رکھنے والوں کے لیے فرمایا کہ ’’آپ آزاد ہیں ، آپ کو پاکستان کی ریاست میں اپنے مندروں، مسجدوںیادوسری عبادت گاہوں میں جانے کی مکمل آزادی ہے، آپ خواہ کسی بھی مذہب ، نسل یا ذات سے وابستہ ہوں،ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں ‘‘ ہم بانی ٴ پاکستان کے انہی زرّیں اصولوں کے مطابق ایک جمہوری اور مساوات پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں جہاں ہر شہری کو مکمل حقوق اور اپنے عقائد پر عمل پیرا ہونے کی آزادی ہو ۔

ہم’’ نیشنل ایکشن پلان‘‘ کے تحت دہشتگردی اور فرقہ وارانہ مواد کی نشرو اشاعت پر مؤثر طریقے سے نبردآزما ہو رہے ہیں ۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس عہد میں یہ ممکن نہیں رہا کہ مختلف معاشرے اور اقوام جنگ وجدل کا شکار بھی رہیں اورترقی و خوشحالی کے ثمرات بھی حاصل کریں ،اس لیے انسانیت کی بہتری اور فلاح کے لیے ضروری ہے کہ اس طرزِ عمل کو ترک کر کے پڑوسی اقوام امن وسلامتی اورترقی کے عظیم مقصدکے لیے باہم شراکت داربن جائیں۔

میرے خیال میں قومی سطح پر ہماری کوششوں کو آگے بڑھانے کا یہ مثالی طریقہ ہو گا جس کا مقصد لوگو ں کو تحفظ اور ایسے سازگار معاشی حالات فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ترقی اور خوشحالی کے خوابوں کی تعبیر پا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں مقبوضہ کشمیر کے نہتے ، پرُامن اور معصوم عوام پر بھارت کے بہیمانہ مظالم کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

میںعالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ اس سلسلے میں،میں بھارت سے بھی کہتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازع مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہو جائے ۔صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان نے ایک اور پانچ سالہ جمہوری دور مکمل کر لیا ہے جو پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کی دلیل ہے۔

وطنِ عزیز میں ۵۲ / جولائی کو عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ آنے والی جمہوری حکومت عوام کی فلاح وبہبود اور خوشحالی کے لیے تندہی سے کام کرے گی،رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم لوگوں کی مشکلات، مجبوریوں اور دکھوں کا ہر ممکن مداوا کرنے کی کوشش کریں۔ عالم انسانیت کو درپیش کثیر الجہتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقوام عالم ایک دوسرے کی مدد کریں اور اس مقصد کے لیے روزے جیسی مشترک اقدار کو باہمی اتفاق اور اتحاد کا ذریعہ بنالیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ آخر میں ،میںایک مرتبہ پھر آپ سب کاآج کی تقریب میں دل کی گہرائی سے خیر مقدم کرتا ہوں۔میری دعا ہے کہ اس ماہٴ مبارک کی خیروبرکت سے یہ دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے،میں آپ سب دوستوں کی ترقی، خوشحالی، بہترین صحت، عالم انسانیت کی فلاح و بہبود اور امن و سلامتی کے لیے دعاگوہوں،اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین۔

Your Thoughts and Comments