جمال عبدالناصر کی طرح یہودیوں کوسمندر برد کرنے کا دعوی کبھی نہیں کیا،خامنہ ای

فلسطین میں فلسطینی قوم کو آزادانہ زندگی گزارنے کی حمایت کرتے ہیں،ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے چار عرشوں پر محیط ایرانی موقف میں تبدیلی کا عندیہ دے دیا، عالمی مبصرین

بدھ جون 16:19

تہران(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ جون ء)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ جمال عبدالناصر کی طرح یہودیوں کوسمندر برد کرنے کا دعوی نہیں کیا، فلسطین میں فلسطینی قوم کو آزادانہ زندگی گزارنے کی حمایت کرتے ہیں، خامنہ ای نے چار عرشوں پر محیط ایرانی موقف میں تبدیلی کا عندیہ دے دیا۔ غیر ملکی ذرائع کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر اور رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کا ایک نیا بیان ذرائع ابلاغ میں گردش کررہا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ مصرکے سابق صدر جمال عبدالناصر کی طرح ہم نے یہودیوں کو کبھی سمندر برد کرنے کی بات نہیں کی۔

خامنہ ای کا یہ بیان اسرائیل کے حوالے سے موقف میں تبدیلی کا عندیہ دے رہا ہے جس میں وہ یہودیوں کو سمندر برد کرنے کے دعوں کی نفی کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے کے بعد اس بیان پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ اتوار کو خامنہ ای نے قضیہ فلسطین کے حل کی تجاویز پیش کی تھیں جن میں اسرائیل کے حوالے سے ایران کے موقف میں ماضی کے برعکس انداز اختیار کیا گیا تھا۔

گذشتہ چار دہائیوں سے ایران اسرائیل کو برائی کی جڑ قرار دیتے ہوئے اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کا نعرہ لگاتا رہا ہے۔ سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دورمیں اسرائیل سے نفرت اپنی انتہا پر تھی جب انہوں نے نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام ہولوکاسٹ کو جھوٹ قرار دیا تھا۔سپریم لیڈر نے ایرانی جامعات کے اساتذہ کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا کہ یہودیوں کو سمندر برد کرنے کا نعرہ سابق مصری صدر جمال عبدالناصر نے لگایا۔

ہم نے آج تک ایسی کوئی بات نہیں کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے دن سے جمہوریت کی بات کرتے تھے۔ ہم نے اپنا واضح پروگرام پیش کیا۔ فلسطین میں فلسطینی قوم کو اپنا وطن قائم کرنے کا پروگرام اور اس کی حمایت کی گئی۔ ہمارا موقف اقوام متحدہ کے ریکارڈ پر بھی موجود ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ خامنہ نے کا بیان چار عشروں پر پھیلے ایرانی موقف میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔

ایران کے صوبہ اھواز کے ایک سیاسی رہ نما وجدان عبدالرحمان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتیہوئے کہا کہ چار عشرے تک ایران مسلسل اسرائیل کو تباہ کرنے اور اسے نیست ونابود کرنے کی بات کرتا رہا ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا خامنہ ای عراق جنگ جاری رکھنے کا اصرار بھول گئی اس وقت ایران نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ ہم کربلا سے القدس تک پہنچیں گے، اس جنگ نے دوملکوں کیعوام کی کھال ادھیڑ دی۔ ایران آج تک فلسطین میں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی بات کرتا آیا ہے۔

Your Thoughts and Comments