ایم کیوایم رابطہ کمیٹی نےفاروق ستارکوبہادرآباد واپسی کا مینڈیٹ دےدیا

فاروق ستارکااختلافات بھلا کرواپسی کا فیصلہ،الیکشن میں بہادرآباد کے امیدواروں کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے۔رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ

جمعہ جون 17:39

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ جون ء): کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پی آئی بی گروپ کی قیادت کا فاروق ستار کی رہائشگاہ پر اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ایم کیو ایم کے اراکین رابطہ کمیٹی کی اکثریت نے فاروق ستار کو بہادرآباد واپسی کا مینڈیٹ دے دیا، جس پرفاروق ستار نے بہادر آباد گروپ میں اختلافات بھلا کرواپسی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کے اراکین رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اس نکتے پر بھی متفق ہوئے کہ الیکشن میں بہادرآباد کے امیدواروں کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے۔اجلاس میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ انتخابات میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا اہم معاملہ ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پی آئی بی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے گیارہ جون کو پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ پر پول دھاندلی ہے اس کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

پتنگ مجھ سے چھین کر کسی اور کو دی گئی۔مہاجروں کو قیادت سے محروم کیا گیا۔اگر ایسا رہا تو ہم احتجاجی طور پر الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کرسکتے ہیں۔ ساتھیوں نے سپریم کورٹ جانے کا مشورہ دیا ہے لیکن ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے بعد اپنی رہائش گاہ پی آئی بی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ساتھیوں سے طویل مشاورت کی ہے ۔عدالتیں کسی کو لیڈر نہیں بناتی ہیں ۔عوام لیڈر کو لیڈر بناتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے حساب سے میں کنوینر رہوں یا نہ رہوں عوام کے دل میں میری عزت بھی ہے اور اعتماد بھی حاصل ہے۔عدالتی فیصلہ ایک طرف ہوگا اور عوام کا فیصلہ ایک طرف ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وسیع طر مفاد میں مائنس ون کا فارمولا قبول کیا ۔مہاجروں کی شناخت کو مٹانے کا کام جب شروع ہوا تو کہا تھا کہ مائنس ایم کیو ایم فارمولا ہے ۔مائنس ون نہیں مائنس ٹو نہیں بلکہ مائنس ایم کیو ایم کا فارمولا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہاجروں کے ووٹ بینک اور انکی شناخت کا معاملہ ہے۔عدالتی فیصلوں سے مجھے ہٹایا جا سکتا ہے لیکن عوام کے دل سے نہیں نکالا جا سکتا ہے۔

ساتھیوں نے سپریم کورٹ جانے کا مشورہ دیا ہے لیکن ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔میں مہاجروں کی تقسیم نہیں چاہتا ہوں۔جو لوگ مہاجر اتحاد قائم کرسکتے ہیں انکو سوچی سمجھی سازش کے تحت مائنس کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ پری پول دھاندلی ہے ،تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔پتنگ مجھ سے چھین کر کسی اور کو دی گئی۔مہاجروں کو قیادت سے محروم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا رہا تو ہم احتجاجی طور پر الیکشن کا بائیکاٹ کا اعلان کرسکتے ہیں۔جنوبی سندھ صوبے کی تحریک کا باقاعدہ آغاز کرتا ہوں ۔ الیکشن میں حصہ لیا تو جنوبی سندھ صوبے کے قیام کے لئے جدوجہد کرینگے۔

Your Thoughts and Comments