گزشتہ کئی ماہ سے نواز شریف اور ان کی بیٹی کا جو کردار رہا ہے وہ سامنے لانا چاہتا ہوں ،ْ چوہدری نثار علی خان

نوازشریف بہت زیادہ سینئر یا اہل نہیں تھے کہ پارٹی سربراہ بن سکیں ،ْ34 سال سے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا، نواز شریف کا مجھ پر نہیں ،ْ میرا ان پر اور شریف خاندان پر قرض ہے ،ْہو سکتا ہے نواز شریف سے راہیں جدا ہو جائیں ،ْنہ بکنے والا ہوں اور نہ ضمیر فروش ہوں، سیاست صرف عزت کے لیے کروں گا، کسی کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑا نہیں ہوا اور نہ کسی کی چاپلوسی کی ،ْووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے اس شخص کو نظر انداز کر رہے ہیں جو 1985 سے الیکشن جیتتا آ رہا ہے ،ْ کارنر میٹنگ سے خطاب چوہدری نثار کے جلسے میں گو نواز گو کے نعرے…… وہ تو ہوگیا اب یہ وقت نہیں ہے ،ْ چوہدری نثار علی خان کا جواب

پیر جون 20:20

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء)پاکستان مسلم لیگ (ن )کے ناراض رہنما سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے نواز شریف اور ان کی بیٹی کا جو کردار رہا ہے وہ سامنے لانا چاہتا ہوں ،ْ نوازشریف بہت زیادہ سینئر یا اہل نہیں تھے کہ پارٹی سربراہ بن سکیں ،ْ34 سال سے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا، نواز شریف کا مجھ پر نہیں ،ْ میرا ان پر اور شریف خاندان پر قرض ہے ،ْہو سکتا ہے نواز شریف سے راہیں جدا ہو جائیں ،ْنہ بکنے والا ہوں اور نہ ضمیر فروش ہوں، سیاست صرف عزت کے لیے کروں گا، کسی کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑا نہیں ہوا اور نہ کسی کی چاپلوسی کی ،ْووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے اس شخص کو نظر انداز کر رہے ہیں جو 1985 سے الیکشن جیتتا آ رہا ہے۔

(جاری ہے)

پیر کو کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جب مسلم لیگ ن بنا رہے تھے تو 15 سے 20 لوگ تھے لیکن آج ان لوگوں میں سے ایک بھی پارٹی میں موجود نہیں ہے، ان تمام افراد کو یا تو نواز شریف نے چھوڑ دیا یا انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف بہت زیادہ سینئر یا اہل نہیں تھے کہ پارٹی سربراہ بن سکیں لیکن ان دنوں کسی ایک کو آگے کرنا تھا تو فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو آگے کر دیا جائے۔

انہوںنے کہا کہ 34 سال سے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا، نواز شریف کا مجھ پر نہیں بلکہ میرا ان پر اور شریف خاندان پر قرض ہے۔سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ چاہتا تھا کہ آج ن لیگ اور نوازشریف کے حوالے سے کھلی باتیں کروں، ارادہ تھا بہت سی دل کی باتیں کھل کر سامنے رکھوں لیکن میڈیا کے سامنے بہت سی باتیں نہیں کر سکتا۔انہوںنے کہاکہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کا جو کردار رہا وہ سامنے لانا چاہتا ہوں تاہم نواز شریف اور (ن )لیگ کے ساتھ چند ماہ سے جو کچھ ہو رہا ہے بتانے کایہ موقع نہیں کیونکہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت خراب ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میری نواز شریف سے راہیں جدا ہو جائیں، میں نے ہمیشہ سر اٹھا کر سیاست کی، کوئی کام اصولوں کے خلاف نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ نہ بکنے والا ہوں اور نہ ضمیر فروش ہوں، سیاست صرف عزت کے لیے کروں گا، کسی کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑا نہیں ہوا اور نہ کسی کی چاپلوسی کی۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے اس شخص کو نظر انداز کر رہے ہیں جو 1985 سے الیکشن جیتتا آ رہا ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جو مجھے خاموش رہنے کا کہتے ہیں ان کو کہتا ہوں 25 جولائی کو عوام جواب دیں گے۔تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ اس حوالے سے خبریں نہ پھیلائی جائیں، جو فیصلہ کروں گا سب کو بتاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو وہ اکیلا نہیں ہوسکتا اور مخلوق خدا جس کے ساتھ ہو اس کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔چوہدری نثار کے جلسے میں گو نواز گو کے نعرے بھی لگ گئے جس پر مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما نے کہا کہ وہ تو ہو گیا اب یہ وقت نہیں ہے۔

Your Thoughts and Comments