حمزہ علی عباسی کے شاندار فلاحی قدم نے سب کے دل جیت لئیے

حمزہ علی عباسی نے لاہور کے مخصوص علاقے سے تعلق رکھنے والے گمنام باپ کے بچوں کے سر پر دست شفقت رکھ دیا،11 بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھالی

پیر جون 23:02

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء):حمزہ علی عباسی کے شاندار فلاحی قدم نے سب کے دل جیت لئیے حمزہ علی عباسی نے لاہور کے مخصوص علاقے سے تعلق رکھنے والے گمنام باپ کے بچوں کے سر پر دست شفقت رکھ دیا،11 بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھالی۔عید کا دن گزارنے بھی لاہور کے بدنام علاقے ہیرا منڈی پہنچ گئے۔تفصیلات کے مطابق معروف اداکار حمزہ علی عباسی کی شخصیت کے بہت سے روپ ہیں ۔

ایک جانب وہ باصلاحیت اداکارہ ہیں تو دوسری جانب ان میں ایک ایینکر پرسن بھی چھپا بیٹھا ہے۔ریحام خان کی کتاب کے مندرجات لیک کرنے کے بعد وہ خاصی دیر خبروں کی زینت بھی بنتے رہے یہاں تک کہ ریحام اور حمزہ علی عباسی نے ایک دوسرے پر ڈرانے دھمکانے کے الزامات بھی لگائے اور اس حوالے سے دونوں قانونی لڑائی میں بھی الجھ پڑے۔

(جاری ہے)

گو کہ حمزہ خود کو عملی طور پر تحریک انصاف کا حصہ نہیں کہتے اور نہ ہی تحریک انصاف انکو اپنا عملا حصہ مانتی ہے اس کے باوجود انکی پاکستان تحریک انصاف سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔

اس حوالے سے ایک پہلو انکی شخصیت کا ایسا بھی ہے جس سے ہر کوئی آشنا نہیں ہے اور وہ انکے فلاحی کام ہیں۔ایسا ہی ایک فلاحی کام انہوں نے کیا ہے جسے شائد بڑے بڑے لوگ بھی کرنے سے کتراتے ہیں اور وہ کام ہے لاہور کے بدنام علاقے ہیرا منڈی میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کا جن کی مائیں تو ہٰیں لیکن ان کے باپ گم نام ہیں ۔
حمزہ علی عباسی نہ صرف ایسے بچوں کی بحالی اور فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں بلکہ انہوں ایسے 11بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھائی ہوئی ہے۔

حمزہ علی عباسی انکے ساتھ وقت گزارتے ہوں بلکہ انکے ساتھ گھل مل جاتے ہیں ۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے حمزہ علی عباسی کا کہنا تھا کہ مجھے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ تم شادی کب کرو گے تو میں یہی کہتا ہوں کہ شادی تو جب ہو گی سو ہو گی لیکن میں ابھی بھی اپنے بچے رکھتا ہوں اور وہ بھی ایک دو نہیں بلکہ پورے گیارہ۔
انکا کہنا تھا کہ ان بچوں کی بحالی بہت ضروری ہے اور یہ قدم ہمیں ااٹھانا ہے ۔

انکا کہنا تھا کہ ہم ان بچوں کی بحالی کے لیے اس لئیے آگے بڑھے کیونکہ یہ ایک ایسے علاقے اور ایسے ماحول سے تعلق رکھتے ہیں جہاں انہیں کوئی نہیں اپناتا اور نہ ہی یہاں تک کوئی این جی او یا کوئی سرکاری و غیر سرکاری فلاحی تنظیم آگے آتے ہے۔اس لیے اگر ان بچوں پر کام نہ کیا جائے تو انکا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ میں وقتا فوقتا یہاں آتا رہتا ہوں اور ان کے ساتھ وقت گزارتا ہوں اور مجھے یہاں اس کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے۔

Your Thoughts and Comments