دُبئی :باس پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کرنے والا پاکستانی رنگسار جھُوٹا ثابت ہوا

مُدعی اور اس کے باس پر رضا مندی سے غیر فطری جنسی تعلقات کے جُرم میں جرمانہ عائد

پیر جون 12:15

دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء) مقامی عدالت نے ایک پاکستانی تاجر اور اس کے ہم وطن رنگسار کو باہمی رضا مندی سے غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنے پر جُرمانے کی سزا سُنا دی۔ اس مقدمے میں 19 سالہ پاکستانی رنگسار نے اپنے ہم وطن باس پر اُسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق فروری 2018ء کے ایک روز 19 سالہ پاکستانی نوجوان تھانے پہنچا اور اس نے وہاں رپورٹ درج کروائی کہ اُس کے ہم وطن 23 سالہ باس نے اُسے اپنی منی بس میں لے جا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

جس کے بعد باس اُسے مارکیٹ لے گیا‘ اور وہاں سے اُسے پھلوں کی ٹوکری خرید کر دی کہ وہ اس کے بدلے میں اپنی زبان بند رکھے اور پولیس کو کچھ نہ بتائے۔

(جاری ہے)

مُدعی کے مطابق اس واقعے کے دو ہفتوں بعد اُس کے باس نے اُس سے ایک بار پھر جنسی زیادتی کا ارتکاب کر ڈالا۔ پولیس کی تفتیش کے مطابق مُدعی کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا کیونکہ ان دونوں اشخاص نے اپنی رضا مندی سے تعلقات بنائے تھے اور اس میں کسی قسم کی زیادتی شامل نہ تھی۔

عدالت میں پولیس کی تفتیش سامنے آنے پر استغاثہ کی جانب سے دونوں افراد پر غیر فطری جنسی تعلق بنانے کا الزام عائد کیا گیا۔ عدالت میں جرح کے دوران دونوں پر یہ الزام ثابت ہو گیا۔ دونوں ملزمان نے عدالت میں استدعا کی کہ سزا کے معاملے میں اُن سے نرمی برتی جائے۔ رنگسار نوجوان نے پولیس کو تفتیش کے دوران بتایا تھا کہ اُس نے جنسی زیادتی کی جھوٹی رپورٹ اس لیے درج کروائی تھی کیونکہ میرے باس نے مجھے دھمکی دی تھی کہ اگر میں اُس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم نہیں رکھوں گا تو وہ میرا ویزہ منسوخ کر کے مجھے وطن واپس بھجوا دے گا۔

جبکہ اُس کے باس نے پولیس سے کہا کہ نوجوان رنگساز جھوٹ بول رہا ہے اُس(باس) نے اُسے کبھی جنسی زیادتی کا نشانہ نہیں بنایا۔ درحقیقت مُدعی کے کچھ ساتھی ورکروں نے اُسے جھوٹی رپورٹ درج کروانے پر اُبھارا کیونکہ ہمارے درمیان تنخواہ بڑھانے کا جھگڑا چل رہا تھا۔ دُوسری جانب پولیس کی فرانزک رپورٹ میں یہ ثابت ہو گیا کہ 19 سالہ مُدعی اس سے پہلے بھی کئی بار باس کے ساتھ جنسی فعل کا ارتکاب کر چکا ہے۔ اس لیے اُس کا باس کی جانب سے جنسی زیادتی کا الزام سچا ثابت نہیں ہوتا۔ عدالت نے مُدعی اور ملزم پر غیر فطری جنسی تعلق کی پاداش میں جرمانہ عائد کیا ہے۔ جبکہ اس مقدمے کا فیصلہ رواں ماہ کے آخر میں سُنایا جائے گا۔

Your Thoughts and Comments